رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: دو خودکش حملوں میں کم ازکم 7 افراد ہلاک


افغان پولیس

افغان حکام نے بتایا ہے کہ بھاری طور پر مسلح دو خودکش بمباروں نے بدھ کے روز دو پولیس اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا جن سے کم ازکم 7 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے۔

ایک خودکش بمبار خود کو دھماکے سے اڑانے میں کامیاب ہو گیا جب دوسرے کو سیکیورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کی شام کابل کے مغربی اور وسطی حصوں میں دو خودکش حملے ہوئے، جو اس ماہ افغان دارالحکومت میں ہونے والے دوسرے بڑے بم حملے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے بتایا ہے کہ متعدد شدت پسندوں نے پہلا حملہ کابل پولیس کے صدر دفتر پر کیا، جو ضلعہ 13 سے مشہور ہے، جب کہ دوسرا حملہ شہر نو پر ہوا جو شہر کا متمول علاقہ ہے، جہاں بہت ساری غیر سرکاری تنظیموں اور کثیر ملکی اداروں کے دفاتر واقع ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ دونوں حملوں میں حملہ آوروں نے قریبی عمارتوں میں پناہ لی اور بدھ کے روز سکیورٹی افواج اُنھیں تلاش کرتی رہیں۔

پولیس نے علاقے کی عمارتوں کو بھی خالی کرالیا تھا۔

افغان وزارت صحت عامہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چھ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز کے اِن حملوں کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ادھر، کابل میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) نے بدھ کو ہونے والے اِن حملوں کا الزام حقانی نیٹ ورک پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ ورک نے یہ حملے لشکر طیبہ کے ساتھ مل کر کیے ہیں، جو ایک پاکستانی شدت پسند گروپ ہے۔
’این ڈی ایس‘ کا ایک بیان بدھ کی شام جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آج کے حملوں میں ملوث شدت پسندوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جار رہے ہیں۔

وزیر داخلہ، ویس احمد برمک نے اخباری کانفرنس کو بتایا کہ دو خودکش حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد پولیس ضلعہ 13 میں حملہ آوروں کے خلاف چھاپوں کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ یہ حملہ ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس میں دو پولیس اہل کار ہلاک جب کہ دو زخمی ہوئے۔

تاہم، اُنھوں نے بتایا کہ کابل پولیس ضلعہ 10 میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی عمارت کے احاطے کے قریب جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ جب ایک خودکش بم حملہ آور نے بارود بھری جیکٹ بھک سے اُڑا دی، اُس وقت چار مزید بم حملہ آور اُسی گاڑی میں موجود تھے، جنھوں نے علاقے میں داخل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز پر گولیاں چلائیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ’’عین ممکن ہے کہ دو سے تین بم حملہ آور اب بھی زندہ ہوں اور حملے کے مقام پر کہیں چھپے بیٹھے ہوں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG