رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: دو خود کش حملوں میں 9 صحافیوں سمیت 26 افراد ہلاک


کابل میں ہونے والے دوسرے دھماکے کے فوری بعد کا منظر جس سے بچنے کے لیے ایک سکیورٹی اہلکار اور ایک عام شہری زمین پر لیٹے ہوئے ہیں۔

دوسرے حملہ آور نے خود کو صحافی ظاہر کیا اور ان صحافیوں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑالیا جو وہاں پہلے دھماکے کی کوریج کر رہے تھے۔ ادھر ’وائس آف امریکہ‘ کی ڈائریکٹر اماندا بینیٹ نے کہا ہے کہ ہمیں ’ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی‘ کے ساتھی ادارے سے وابستہ دو صحافیوں کی ہلاکت پر سخت دکھ ہوا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دو خود کش حملوں میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں چار صحافی بھی شامل ہیں۔

کابل میں ایمبولینس سروس کے سربراہ محمد عاصم کے مطابق دھماکے چند منٹ کے وقفے سے ہوئے۔ دوسرے دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پہلے دھماکے کے بعد جائے واقعہ کے نزدیک جمع تھے یا امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔

کابل پولیس کے ترجمان حشمت استانکزئی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مرنے والوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول واقعے میں کم از کم 50 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق پہلا دھماکہ پیر کی صبح وسطی کابل کے علاقے شش درک میں افغان انٹیلی جنس ادارے کے مرکزی دفتر کے نزدیک ہوا۔

پولیس ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پہلا خود کش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا جب کہ دوسرا حملہ آور پیدل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دوسرے حملہ آور نے خود کو صحافی ظاہر کیا اور ان صحافیوں کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جو وہاں پہلے دھماکے کی کوریج کر رہے تھے۔

افغان سکیورٹی اہلکار دوسرے دھماکے کے مقام کی جانب دوڑ رہے ہیں۔
افغان سکیورٹی اہلکار دوسرے دھماکے کے مقام کی جانب دوڑ رہے ہیں۔

'افغان جرنلسٹ سیفٹی کمیٹی' کے ڈائریکٹر نجیب شریفی نے کہا ہے کہ دوسرے حملے میں آٹھ صحافی ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق مختلف مقامی اور غیر ملکی نشریاتی اداروں سے ہے۔

ہلاک ہونے والے صحافیوں میں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے کابل میں چیف فوٹو گرافر، مقامی افغان ٹی وی چینلز '1 ٹی وی' کے دو اور 'طلوع' کا ایک کیمرہ مین اور ایک خاتون صحافی بھی شامل ہیں۔

افغان وزارتِ صحت کے ترجمان واحد مجروح نے کہا ہے کہ دھماکوں کے کئی شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

جس علاقے میں خود کش دھماکے ہوئے ہیں وہاں افغانستان کے لیے 'نیٹو' مشن کا صدر دفتر اور کئی غیر ملکی سفارت خانے بھی واقع ہیں۔

کابل پولیس کے سربراہ داؤد امین کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والے علاقے میں کئی غیر ملکی اداروں کے دفاتر بھی ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملوں کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے اور جائے واقعہ سے شواہد جمع کیے جارہے ہیں۔

تاحال کسی نے بھی پیر کو کیے جانے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس سے قبل شدت پسند تنظیم داعش کی مقامی شاخ اور افغان طالبان دونوں ہی حالیہ چند ہفتوں کے دوران کابل میں کئی بڑ ے حملے کرچکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی کابل میں ایک ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر داعش کے خود کش حملے میں کم از کم 60 افراد ہلاک اور 130 زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 22 خواتین اور آٹھ بچے بھی شامل تھے۔

’وائس آف امریکہ‘ کی ڈائریکٹر اماندا بینیٹ نے کہا ہے کہ ہمیں ’ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی‘ کے ساتھی ادارے سے وابستہ دو صحافیوں کی ہلاکت پر سخت دکھ ہوا ہے، جو پیر کی صبح کابل میں ہونے والے دو خودکش دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔

تیسرا صحافی جو مئی میں ’ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی‘ میں شامل ہونے والا تھا، وہ بھی اِن حملوں میں ہلاک ہوا۔

تینوں صحافی ان 25 افراد میں شامل ہیں جو کابل کے دھماکوں میں ہلاک ہوئے، جب کہ 45 مزید افراد زخمی ہوئے۔

اماندا بینیٹ نے کہا ہے کہ ’’ہم ’ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی‘ کے سربراہ، ٹھومس کینٹ کے غم میں شریک ہیں، جو بزدلانہ حرکت غیر لڑاکا افراد کے خلاف کی گئی۔ ہم ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دل کی گہرائی کے ساتھ اظہار تعزیت کرتے ہیں، جو آج ہونے والے مہلک حملوں میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے‘‘۔

’وائس آف امریکہ‘ کی سربراہ نے کہا ہے کہ ’’ایسے میں جب تین مئی کا آزادی صحافت کا عالمی دِن قریب ہے، آج کا ہونے والا المیہ اُن خدشات کی نشاندہی کرتا ہے جن سے آئے دِن صحافیوں کو واسطہ پڑتا ہے، جو دنیا بھر کے سامعین و ناظرین کو حقائق پر مبنی، بے لاگ اور قابل بھروسہ خبریں فراہم کرنے کی جستجو کرتے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG