رسائی کے لنکس

logo-print

تاریخ میں کیلاش اقلیت سے پہلے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب


کیلاش سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے وزیر زادہ

اقلیتی رکن وزیر زادہ صوبائی اسمبلی کے منتحب ہونے پر وادی کیلاش کے رمبور گاؤں میں جشن کا سماں ہے اور تینوں وادیوں سے کیلاش اور مسلمان دونوں مبارک باد کیلئے رمبور پہنچ گئے۔

چترال کی وادی کیلاش کے رمبور گاؤں سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی کارکن اور کیلاش قبیلے کے رکن وزیر زادہ کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اقلیتی نشستوں کیلئے ٹکٹ دیا گیا تھا۔ اب چونکہ صوبے میں بھاری اکثریت حاصل کرلی تو وزیر زادہ کیلاش اقلیتی برادری کی مخصوص نشستوں میں سے ایک پر رکن صوبائی اسمبلی منتحب ہوئے۔ وزیرزادہ کے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے پر وادی میں جشن کا سماء ہے اور جب سے انتخابات کا عمل ختم ہوا ہے تب سے مہمانوں کا تانتا باندھا ہوا ہے۔

حسب دستور سات جانور وں کی قربانی دی گئی اور کھانا تیارکرنے کی ذمہ داری مسلمانوں کو سونپ دی گئی تاکہ دونوں قبیلوں کے لوگ اسے بلا جھجک کھا سکیں۔

کیلاش قبیلے کے مرد اور خواتین نے اپنی روایات کے مطابق ڈھول کی تھاپ اور بانسری کے سر پر روایتی رقص بھی پیش کیا۔

وزیر زادہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا مقصد چترال بالخصوص کیلاش اور دیگرغیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کا تخفظ کرنا ہے۔

حال ہی میں ایم ایس سی باٹنی کی ڈگری حاصل کرنے والی ایک کیلاش لڑکی گل نظر نے وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر زادہ کے بطور اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے پر بہت خوش ہیں اور امید کرتی ہیں کہ عمران خان ان کو وزارت بھی دیں گے۔

اقلیتوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے ہارون سربدیال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ تاریخ میں پہلی بار کیلاش اقلیت کا نمائندہ صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں آتی تو پھر یہ بھی ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اقلیتوں کی آبادی بہت زیادہ ہیں اور بہت زیادہ تعداد میں اقلیتوں نے نمائندگی کیلئے کاغذات بھی جمع کرائے تھے لیکن سیٹوں کی کمی کی وجہ سے ان کو نمائندگی نہیں مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کیلئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کو بڑھانا چاہئے تاکہ ہر کسی کو موقع مل جائے۔ اسی طرح اب قبائلی اضلاع میں صوبائی نشستوں پر انتخابات ہونگے جس میں ایک نشست کو اقلیتوں کیلئے مختص کیا گیا ہے جو آبادی کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہارون نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پہلے حکومت میں محکمہ اوقاف نے جو فنڈ اقلیتوں کیلئے وقف کیا تھا وہ صحیح طریقے سے خرچ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے فنڈ کیلئے مناسب لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ دوبارہ فنڈ ضائع نہ ہو جائے۔

33سالہ وزیر زادہ کا تعلق چترال کی کیلاش برادری سے ہے جو افغانستان کی سرحد سے ملحقہ تین اہم وادیوں میں صدیوں سے رہائش پزیر ہیں۔ وادی بمبوریت میں پیدا ہونے والے وزیر زادہ پشاو ر یونیورسٹی سے علم سیاست میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں جبکہ اُنہوں نے میٹرک اور بی اے چترال اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان نوشہرہ کے کالجوں سے پاس کیا ہے۔ وزیر زادہ شادی شدہ اور ایک بیٹے کے باپ ہیں۔ ان کی اہلیہ بھی گریجویٹ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG