رسائی کے لنکس

کالاش قبیلہ معدومی کے خطرے سے پریشان


کالاش کی خواتین (فائل فوٹو)

کالاش قبیلہ اپنے رسم و رواج اور بودوباش کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک الگ شناخت رکھتا ہے لیکن یہ قدیم قبیلہ معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

اس بات کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ ایک وقت میں چترال بھر میں پائے جانے والے کالاش کے لوگ اب صرف تین وادیوں بھمبھریت، رنبور اور بریر تک محدود ہیں اور وہاں ان کی تعداد محض 4114 ہے جب کہ ان ہی تین وادیوں میں دیگر قومیتوں کی مسلمان آبادی کی تعداد اس سے دگنی ہے۔

جمعرات کو انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا جس کے شرکا میں کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شامل تھے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ معدومی کے اس خطرے میں اضافہ حالیہ چند برسوں میں ہوا ہے جس کی وجہ ان کے علاقوں میں غیر کالاش لوگوں کی آبادی کا قیام پذیر ہونا، مبینہ طور پر کالاش لوگوں کا مذہب جبراً تبدیل کروانا اور اس علاقے کے اپنے مخصوص رسم و رواج میں باہر کے لوگوں کی مداخلت میں اضافہ ہے۔

سعید گل کالاش اپنے قبیلے کی ثقافت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک عرصے سے کوشاں ہیں۔

مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کالاش کی وادیوں میں دیگر غیر مقامی لوگوں کی آبادی میں اضافے اور آمدورفت سے وہ لوگ پہلے کی طرح کھل کر نہ تو بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے احساسات کا اظہار کرسکتے ہیں۔

سعید گل کالاش (بائیں) اپنے قبیلے کی دیگر خواتین کے ساتھ مذاکرے میں شریک ہیں
سعید گل کالاش (بائیں) اپنے قبیلے کی دیگر خواتین کے ساتھ مذاکرے میں شریک ہیں

"ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ وہاں کسی نے کلمہ لکھ کر تو گھروں اور دیواروں پر لگایا ہوا تھا، اس سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، میں نے کسی سے کہا کہ اگر ہوا کی وجہ سے یا کسی بھی وجہ سے یہ (پوسٹر) گر جاتا ہے تو ہم پر توہین مذہب کا الزام نہ لگا دیا جائے تو مجھے لوگوں نے اس پر بات کرنے سے منع کر دیا کہ آپ اس پر بات نہ کریں۔"

سعید گل کالاش کہتی ہیں کہ ان کے قبیلے کے لوگ چار ہزار سال سے زائد عرصے سے اپنے مذہب اور رسوم و رواج کی پاسداری کرتے آ رہے ہیں لیکن اس پر بھی بہت سے حلقوں کی طرف سے اختلافی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو کہ اس قبیلے کے لیے حوصلہ شکنی کا باعث ہیں۔

کالاش کے لوگوں کا اپنا مذہب اور زبان ہے۔ غیر مسلم قبیلہ ہونے کی وجہ سے ان کے علاقوں کو عرف عام میں کافرستان بھی کہا جاتا ہے۔ ایک عرصے سے تبلیغ اسلام کے لیے کئی مذہبی حلقے بھی ان وادیوں کا رخ کرتے رہے ہیں۔

مذاکرے میں کالاش قبیلے کے دیگر لوگوں کا شکوہ تھا کہ ان کی تصاویر اور روایتی رقص پر مبنی وڈیوز سے دنیا بھر ان کی شناخت کو سراہا تو جاتا ہے لیکن انھیں درپیش مشکلات کا نہ تو کوئی ذکر کرتا ہے اور نہ ہی اس کے ازالے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام دیکھنے میں آتا ہے۔

ان لوگوں کا مطالبہ تھا کہ کالاش کی زبان اور ثقافت کو باقاعدہ طور پر دستاویزی صورت میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے سیاحوں اور دیگر افراد کے لیے کوئی ضابطہ کار تیار کیا جائے اور اس قبیلے میں دیگر غیر کالاش افراد کی مداخلت کو روکنے کے لیے بھی اقدام کیے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG