رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی عدالت انصاف، کلبھوشن کیس کی سماعت فروری میں


ہیگ (فائل)

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس آئندہ برس فروری میں سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ مبینہ بھارتی جاسوس کو صوبہٴ بلوچستان میں پکڑا گیا تھا۔

دفترخارجہ کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس آئندہ برس فروری کے مہینے میں سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے جس کی فروری میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی۔ اس حوالے سے جو تاریخیں پاکستان کو بتائی گئی ہیں وہ 19 سے 25 فروری تک ہیں۔

بھارتی مبینہ جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں عالمی عدالت انصاف میں پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2،2 جوابات جمع کرائے گئے۔

پاکستان نے پہلا جواب 13 دسمبر 2017 اور دوسرا جواب رواں برس 17 جولائی کو جمع کرایا جس میں پاکستان نے بھارت کے تمام اعتراضات کے جواب دیے ہیں۔

بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس پر عالمی عدالت انصاف نے حکم امتناع جاری کر رکھا ہے جس کے باعث پاکستان اس کو پاکستانی عدالتوں سے دی گئی سزا پر عمل درآمد نہیں کرسکتا۔

پاکستانی حکام کے مطابق، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی۔

پاکستانی حکام کے مطابق کلبھوشن یادیو کو سزا سنائے جانے کے بعد 22 جون 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا جبکہ ملٹری کورٹ آف اپیل نے اس حوالے سے کی جانے والی درخواست مسترد کردی تھی۔

قانون کے مطابق، کلبھوشن یادیو آرمی چیف کی طرف سے سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعد صدر پاکستان سے بھی رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG