رسائی کے لنکس

logo-print

کلبھوشن پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد کے امکانات


عالمی عدالت انصاف کا ایک منظر، فائل فوٹو

بین الااقوامی ماہرین قانون کا کہنا ہےکہ کلبھوشن کیس کے فیصلے کے بعد یہ مقدمہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں لے جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس کے ذریعے پاکستان بھارت کو دباؤ میں لا سکتا ہے، لیکن اس کا حتمی حل دونوں ملکوں کی ہاہمی بات چیت میں ہے۔ تاہم پاکستان کے تجزیہ کار عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد سفارتی حل کے امکانات کو مسترد کر رہے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف میں مقدمات کی پیروی کرنے والے کینیڈین اٹارنی ایٹ لا ڈاکٹر فضل جاوید کہتے ہیں کہ عالمی عدالت میں تعینات جج چونکہ ریاستوں کے نامزدکردہ منتخب لوگ ہوتے ہیں، اس لیے عالمی عدالت کے فیصلوں میں سیاسی جھلک ضرور ہوتی ہے۔ اس فیصلے میں بھی عدالت نے دونوں ملکوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈاکٹر فضل جاوید کے بقول’ میرا موقف آج بھی یہی ہے کہ یہ مقدمہ عالمی عدالت انصاف میں جانا ہی نہیں چاہیئے تھا۔ کلبھوشن یادھو نسل کشی میں ملوث تھا۔ اس لیے یہ مقدمہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں جانا چاہئے تھا۔

ڈاکٹر فضل جاوید کے مطابق عدالت میں پیش کردہ مقدمہ مبالغہ آرائیوں پر مبنی تھا، کیس تیار کرتے ہوئے یہ خیال نہیں رکھا گیا کہ کافی ثبوت موجود ہیں۔

ڈاکٹر فضل جاوید کے بقول ’ جب بھارت نے مقدمہ دائر کیا تو شواہد میں اس نے مبالغہ آرائی سے کام لیا اور اسی طرح پاکستان نے اپنے جواب میں مبالغہ آرائی شامل کی۔ لہذا ججوں نے ان مبالغہ آرائیوں میں کمی کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو خوش رکھنے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر فضل کے مطابق اب بھی یہ مقدمہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں لے جایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو پہل کرنا ہو گی۔ لیکن ساتھ ہی سپریم کورٹ میں بھی اس مقدمہ پر نظرثانی کرانا ہو گی۔

فضل جاوید کہتے ہیں کہ مغربی ممالک میں بھی فوجی عدالتیں جب سزا سناتی ہیں تو ان پر نظرثانی سول عدالتوں میں کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کلبھوشن یادھو کا مقدمہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں نہیں اٹھائے گا کیونکہ اسے سپریم کورٹ سے کسی مختلف فیصلے کی توقع نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کو یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں لے جاتے ہوئے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں بھی درخواست دائر کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان یہ مقدمہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں لے جاتا ہے تو پاکستان کے لیے بھارت کو بین الااقوامی دہشت گرد ملک قرار دلانے کا موقع موجود ہو گا۔

دوسری جانب برطانوی قانون دان بیرسٹر امجد ملک بھی فضل جاوید سے اس پہلو پر اتفاق کرتے ہیں کہ کلھبوشن کے مقدمے میں بھارت اور پاکستان دونوں کو ہی مکمل کامیابی نہیں ملی۔

لیکن ان کے خیال میں پاکستان اب بھی بہتر پوزیشن میں ہے کیونکہ کلبھوشن اس کی حراست میں ہے اور اسے سزا سنائی جا چکی ہے۔ عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کے اس اختیار میں مداخلت نہیں کی۔

بیرسٹر امجد ملک کہتے ہیں کہ فیصلے میں بھارت کے اس حق کو تسلیم کیا گیا گیا ہے کہ اس کے شہری کو، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے مقدمے میں ملوث ہے، آرٹیکل 36 کے تحت قونصلر رسائی ملنی چاہئے۔

بیرسٹر امجد ملک کے مطابق اب یہ معاملہ عدالت سے نکل کر ایک بار پھر دونوں ممالک کے ہاتھوں میں آ گیا ہے کہ وہ باہمی بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں۔

برسٹر امجد ملک کے بقول ’گزشتہ دنوں کرتارپور بارڈر اور فضائی راہداری کی بحالی کے جو فیصلے سامنے آئے ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ دونوں ممالک تعلقات کی بہتری کی جانب بڑھیں گے‘۔

بھارت کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کنفیلکٹ اسٹڈیز دہلی کے ڈائریکٹر جنرل اور تجزیہ کار دیپک بنرجی کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو قانونی طریقہ کار سے نکل کر تعلقات کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنے چاہئیں اور پاکستان کو چاہیئے کہ وہ کلبھوشن کو رہا کر دے۔ اس سے ایک راستہ نکلے گا۔

تاہم پاکستان کے تجزیہ کار جنرل امجد شعیب اس خیال سے متفق نہیں کہ یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی بات چیت سے حل ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے نے سفارتی سطح پر معاملے کے حل کے امکانات کو مسدود کر دیا ہے۔

جنرل امجد شعیب کے مطابق ’ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے فیصلہ دے دیا ہے اور یہ مقدمہ خود بھارت وہاں لے کر گیا تھا۔ تو اب دونوں کو چاہئے اچھا لگے یا نہ لگے، عدالت کے فیصلے پر عمل کرنا ہو گا۔ آئندہ چند دنوں میں اٹارنی جنرل پاکستان اپنا لائحہ عمل دے دیں گے اور قانونی ضرورتوں کو پورا کر لیا جائے گا۔ اب اس مرحلے پر اس معاملے کو بات چیت سے حل کرنے کے تمام امکانات ختم ہو گئے ہیں۔

اب دیکھا یہ ہے کہ کلبھوشن کو بچانے کے لیے آیا دونوں ممالک سنجیدہ مذاکرات کریں گے یا پھر دونوں جانب کی ضد اس کے حل کی راہ میں حائل رہے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG