رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری


کراچی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

پیپلز پارٹی کی قیادت میں مرکز اور سندھ میں قائم مخلوط حکومتوں میں شامل دو اہم اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور اے این پی کے درمیان بڑھتی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے کراچی میں امن کی بحالی کا مسئلہ ایک بار پھربڑا چیلنج بن چکا ہے۔

پولیس حکام نے ”ٹارگٹ کِلنگ“ کے حالیہ واقعات میں مرنے والوں کی مصدقہ تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے لیکن مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر میں گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران 33سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ہے ۔

صوبائی حکومت نے یکم جنوری سے اب تک سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ہلاکتوں کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے جس کی رپورٹ 30 روز میں پیش کی جائے گی۔ لیکن یہ تحقیقات کب شروع ہوں گی وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے اس بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے۔

ہفتہ کو نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا تھا کہ کراچی میں رواں سال جنوری سے جولائی تک 136افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا جاچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو عسکریت سے پاک کرنے کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو دس روز میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔


انھوں نے صوبے کی مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ شہر میں بدامنی کے واقعات پر قابو پانے میں حکومت کی مدد کریں۔

کراچی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
کراچی میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

واضح رہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے باعث شہر میں سیاسی کشیدگی میں حالیہ تیزی جمعہ کی شب گلستان جوہرمیں ایم کیو ایم کے دفترپر حملے کے بعد آئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہفتہ کو ایم کیو ایم کے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں واضح طور پر اے این پی کو ”گن مافیا اور ڈرگ مافیا “قرار دیتے ہوئے ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

تاہم اے این پی کے صوبائی صدر شاہی سیدنے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ” بعض عناصرکو پختونوں کے قتل عام کرنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے تاہم کراچی کے پختون جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں“۔

کراچی شہر کے حساس علاقوں میں بھاری تعداد میں پولیس اور رینجرزکو تعینات کیا گیا ہے لیکن ان اقدامات کے باوجود تشدد کے واقعات جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG