تاریخ بتاتی ہے کہ یہ بازار برصغیر دور سے قبل بمبئی سے کراچی آنےوالے تاجروں نے آباد کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد، دیگر کاروباری مراکز کی طرح، اس بازار کو بھی ایک کاروباری شکل مل گئی جہاں آج بھی ہول سیل پر کپڑے کا کاروبار کیا جاتا ہے
کراچی: شہر کراچی کا شمار دنیا کے میگا سٹی میں ہوتا ہے۔ پاکستان کا معاشی مرکز کہلانے والے اس شہر نے جدید شکل تو اختیار کرلی ہے، مگر اس کی کئی گلیاں اور محلے اور تجارتی مراکز ایسے ہیں جو آج بھی شہر کراچی کی ماضی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
یوں تو کراچی کا ہر تجارتی مرکز اور بازار اپنی مثال آپ ہے اور اہمیت کے اعتبار سے شہرت کا حامل ہے، مگر 'بمبئی بازار' برصغیر دور سے قبل کا وہ بازار ہے جہاں دور دراز سے تاجر آکر کاروبار کرتے تھے۔ یہ کاروباری مرکز آج بھی اسی نام سے مشہور ہے، جیسے قیام پاکستان سے قبل تھا۔
کراچی کے ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ اور موٹن داس مارکیٹ سے منسلک سڑک سیدھا کھارادر کی جانب جاکر ختم ہوتی ہے۔ یہ 'بمبئی بازار' ہے جہاں کپڑے کا ہول سیل کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ یہاں موجود اب بھی کئی پرانی رہائشی عمارتیں ہیں جو ماضی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
اس بازار میں کئی برسوں سے کاروبار کرنےوالے ایک تاجر، محمد یعقوب نے نمائندہ سے گفتگو میں بتایا کہ 'قیام پاکستان سے قبل ملنے والا یہ نام بھارت سے جدا ہونے کے بعد بھی نا بدلا اور ناہی کبھی بدلنے کی کوشش کی گئی'۔
ووہ کہتے ہیں: 'انڈیا میں جو بمبئی شہر ہے اس کا نام بدل کر ممبئی ہوگیا۔ مگر یہ آج بھی بمبئی بازار ہی ہے، جہاں پرانی یادیں اب بھی موجود ہیں'۔
انھوں نے مزید بتایا کہ 'یہاں سارے بمبئی سے آئے ہوئے میمن تاجر کاروبار کر رہے ہیں اور رہائش پذیر ہیں جو پاکستان بننے سے قبل یہاں منتقل ہوئے۔ اور اب یہیں کے ہو رہے'۔
تاجر محمد یعقوب کے مطابق، اس روڈ سے ملحقہ ایک اور روڈ 'رامپارٹ روڈ' بھی موجود ہے۔ ایک ساتھ موجود رامپارٹ روڈ اور بمبئی بازار ہیں، جب سے انڈیا پاکستان بنا ہر قسم کی مارکیٹیں ویسے ہی آباد ہیں۔۔ جوڑیا بازار، کھارادر، اولڈ سٹی ایریا یہ سب ویسے ہی ہیں، مگر اسکےبعد نئے علاقے بنتے گئے اور آبادی بڑھتی گئی'۔
کراچی کا 'بمبئی' بازار آج بھی پرانے نام سے مشہور
1/9کراچی میں برصغیر کا قدیم، 'بمبئی بازار' آج بھی اُسی نام سے جانا جاتا ہے
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
2/9یہاں کی ہر دوکان پر بمبئی بازار کا پتہ تحریر ہے
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
3/9بمبئی بازار کپڑے کی ہول سیل مارکیٹ میں شمار ہوتی ہے
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
4/9 سندھ کی بمبئی شہر سے جڑی پرانی یادیں اب بھی کراچی کے بمبئی بازار سے نمایاں ہیں
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
5/9بمبئی بازار میں موجود ایک قدیم رہائشی عمارت
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
6/9ایک دکان پر بمبئی بازار تحریر ہے یہ نام قیام پاکستان سے بہت قبل اس مارکیٹ کو ملا تھا جو آج بھی اسی نام سے مشہورہے
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
7/9تجارتی مرکز سمیت یہ ایک رہائشی علاقہ بھی ہے جہاں بڑی تعداد میں میمن برادری کے افراد رہتے ہیں
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
8/9کراچی:اس بازار میں کپڑے کے ہول سیل دکانوں کی چھوٹی بڑی مارکیٹیں، گودام اور رہائشی عمارات ہیں،
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
9/9کراچی کے بمبئی بازار کا ایک پرانا کھانے کا مرکز
پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 برس کا عرصہ گزر چکا مگر برصغیر دور کی یادیں آج بھی کراچی کے شہر میں اسی طرح مشہور ہیں۔ انہی میں شہر کا بمبئی بازار بھی ہے، جو اپنی تاریخ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے
Previous slide
Next slide
بمبئی بازار روڈ پر کپڑے کے ہول سیل دکانوں کی چھوٹی بڑی مارکیٹیں، گودام اور رہائشی عمارات بھی ہیں، جہاں زیادہ تر میمن برادری رہائش پذیر ہے ان عمارتوں میں نئی عمارتیں بن گئیں جب کہ کچھ قدیمی ہیں۔
یہاں کھانے پینے کے مراکز ہوں، دکانیں ہوں، گودام ہوں یا ہو بینک کی شاخیں سب بمبئی بازار کے نام سے منسوب ہیں، جن پر بمبئی بازار صاف صاف تحریر ہے۔
سندھ اور بمبئی کے روابط اور رہن سہن کی صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ کسی زمانے میں یہ ایک ہی صوبہ ہوا کرتا تھا۔
سنہ 1928 میں سندھ اور بمبئی دوبارہ الگ صوبے بنے۔پاکستان کو ہندوستان سے جدا ہوئے 68 سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔ جب بھی کراچی کے اولڈ سٹی ایریا کا نام سامنے آتا ہے شہر کے اس قدیم بمبئی بازار کا نام یوں ہی لکھا جاتا ہے جیسا کے کل تھا۔