رسائی کے لنکس

کراچی میں ایشیا کی بلند ترین صلیب کی تعمیر مکمل


کراچی میں پچھلے کئی سال سے زیر تعمیر ایشیاء کی سب سے بڑی صلیب بالآخر مکمل ہوگئی ہے۔ یہ صلیب عالمی جنگ کی یادگار ’گورا قبرستان‘ میں ایستادہ ہے اور اقلیتی برادری کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے۔

جدید دور کے اس لینڈ مارک کو کراچی کی سماجی شخصیت پرویز گل نے تعمیر کرایا ہے جن کا کہنا ہے ’’انہیں خواب میں نظر آیا تھا کہ وہ اپنی برادری کے لئے کچھ ایسا کریں جو مختلف اور منفرد ہو۔‘‘ لہذا، انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ کراچی میں اقلیتی برادری کی نمائندگی کی غرض سے ناصرف پاکستان بلکہ ایشیاء کی سب سے بلند صلیب تعمیر کرائیں گے۔

کئی سال تک زیر تعمیر رہنے والا یہ منصوبہ آخر کار اب مکمل ہے۔ ’پیس کمیشن فار انٹرفیتھ ہارمنی‘ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے ’وائس آف امریکہ‘ کو دی گئی معلومات کے مطابق ’’صلیب سطح زمین سے 140فٹ بلند اور اس کی زیرزمین گہرائی 20فٹ ہے۔ اسے 200سے زائد مزدوروں نے تعمیر کیا۔ یہ سیمنٹ، کنکریٹ، سریے، اسٹیل اور لوہے سے مل کر تعمیر کی گئی ہے جو بلٹ پروف بھی ہے۔‘‘

پرویز ہنری کہتے ہیں ’’سیکورٹی خدشات کے سبب پہلے انہوں نے کسی کو بھی یہ نہیں بتایا کہ اتنے بلند ’ٹاور‘ یا مینار کا مقصد کیا ہے۔ یہاں تک کہ مزدورں کو بھی صرف اتنا ہی بتایا گیا کہ ٹاور ’پلر‘ کے طور پر استعمال ہوگا‘‘۔

صلیب کی دورانِ تعمیر لی گئی ایک تصویر
صلیب کی دورانِ تعمیر لی گئی ایک تصویر

بقول ان کے، ’’تکمیل کے آخری مراحل میں جاکر بتایا گیا کہ اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب ’پر‘ تعمیر ہوں گے۔ پروں کی تعمیر سے ’راز‘ کھل کر خود بخود سامنے آگیا، جس پر درجن بھر سے زائد مسلمان مزدور درمیان میں ہی کام چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن، زیادہ تر مزدورں نے اس کی تعمیر جاری رکھی۔‘‘

’پیس کمیشن فار انٹر فیتھ ہارمنی‘ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’’مزدورں میں کرسچن بھی شامل تھے۔ لیکن اکثریت مسلمان مزدورں کی تھی۔ اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ صلیب بین المذاہب ہم آہنگی لئے ہوئے ہے تو قطعاً غلط نہ ہوگا۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG