رسائی کے لنکس

میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، امریکی اہل کار نے کہا ہے کہ '’کراچی کی سڑکوں پر نکلیں تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ لوگ سرعام انجکشن کے ذریعے منشیات کا زہر اپنے جسم میں اتار رہے ہیں'‘

کراچی ایچ آئی وی اور ایڈز کے سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے اسے دنیا کے ان شہروں میں سرفہرست رکھا ہے جہاں ایچ آئی وی کے مریض بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔

پاکستان اور افغانستان میں اس مرض کو قابو میں رکھنے کے لئے کوشاں یو ایس ایڈ کے کنٹری منیجر ماما ڈوسکو کہتے ہیں: '’کراچی میں ایچ آئی وی اور ایڈز کا بم سلگ رہا ہے۔ اس دھماکے سے بچنے کے لئے مختلف برادریوں اور لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ اسی میں سب کا مفاد ہے۔'‘

انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ '’کراچی کی سڑکوں پر نکلیں تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ لوگ سرعام انجکشن کے ذریعے منشیات کا زہر اپنے جسم میں اتار رہے ہیں۔'‘

بقول اُن کے، ''رات کے اندھیرے گواہ ہیں کہ مرد اور خواتین سیکس ورکرز آنے والے انتہائی درد ناک انجام سے بے خبر ہیں۔''

اُنھوں نے کہا ہے کہ ''خواجہ سراؤں کو دیکھئے اب ہر چوک اور گلی چوبارے میں مل جاتے ہیں۔ تینوں قسم کے یہ لوگ آنے والے تباہ کن ’کل‘ سے لاعلم ہیں''۔

ماما ڈوسکو نے مزید کہا ہے کہ ’’یہی وقت ہے کہ عملاً اس بیماری کے خلاف ہر فرد میدان میں اترے اور اپنا اپنا کردار ادا کرے، کیوں کہ اب یہاں مرض اور اس کی وجوہات کا سب کو معلوم ہوگیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو شہر کا حال افریقی ممالک جیسا ہوگا جہاں یہ بیماری ’عام‘ ہوگئی ہے۔ اس صورتحال میں یقین جانئے ایچ آئی وی اور ایڈز پر قابو پانا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہوجائے گا۔‘‘

سندھ کنٹرول پروگرام یعنی 'ایس اے سی پی' کے اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر یونس چاچڑ نے بتایا کہ '’ملک بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد کا تقریباً نصف صوبہ سندھ میں مقیم ہے، جو تعداد کے لحاظ سے 56ہزار 9سو 49 بنتی ہے۔ ‘

'’ایس اے سی پی کے پاس ایچ آئی وی کےاب تک گیارہ ہزار چار سو چونسٹھ مریض رپورٹ ہوچکے ہیں۔ یہ سب زیر علاج ہیں۔ ان میں سے گیارہ ہزار دو سو پچیس ایچ آئی وی پوزیٹیو ہیں جبکہ بقیہ 239مریض پوری طرح سے ایڈز کا شکار ہیں۔'‘

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اس وقت آغا خان اسپتال، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، لیاری جنرل اسپتال اور عباسی شہید اسپتال کراچی میں اور اسی طرح حیدرآباد، بے نظیر آباد، سکھر میرپور خاص اور لاڑکانہ ڈویژنوں کے دیگر حصوں میں ایچ آئی وی اور ایڈز سے متاثر مریضوں کے علاج کے لئے مراکز کھولے جا رہے ہیں۔

بقول ان کے، '’سندھ کے اضلاع میں صحت کے بنیادی مراکز اور صحت کے دیہی مراکز کی سطح پر ’فیملی ایورنیس سینٹرز‘ کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔'‘

ایس اے سی پی نے کراچی میں 26 اور لاڑکانہ میں 19، یعنی مجموعی طور پر 45 ایچ آئی وی سے متاثرہ ماؤں کو ایچ آئی وی سے پاک اولاد کو جنم دینے میں ہر ممکن مدد کی ہے، تاکہ ماں اور بچے دونوں کو بیماری سے بچایا جا سکے۔ مزید اضلاع میں بھی اس کام کو توسیع دی جارہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG