رسائی کے لنکس

نئی تعمیرات میں گم ہو رہی ہے ایک تاریخی یادگار

جدید ترین شاپنگ مالز اور آسمان سے باتیں کرتی عمارتوں، زمین کے دن دگنی اور رات چوگنی بڑھتی قیمتوں اور کرایوں کے سبب کراچی کا ساحل ’عام آدمی‘ کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے

اسی قطعہ اراضی پر واقع ایک تاریخی یادگار ’جہانگیر کوٹھاری پریڈ‘ بھی نئی تعمیرات، بل کھاتے پلوں اور زمین دوز راستوں کے جھرمٹ میں ’گم‘ ہونے لگی ہے۔

دس فروری 1919ء میں جبکہ کراچی اور ممبئی ایک ہی سرزمین کا حصہ ہوا کرتے تھے، اس کے گورنر جارج لائیڈ کے ہاتھوں حد نگاہ تک چوکڑیاں بھرتے سمندر کے کنارے ایک تفریح گاہ کے طور پر تعمیر ہونا شروع ہوا تھا۔ لیکن، کلفٹن کے ساحل پر واقع اس عمارت کو آج نگاہ بھر کر دیکھنے والا بھی کوئی نہیں رہا۔

جودھ پوری سرخ پتھروں سے تعمیر کر دہ ’جہانگیر کوٹھاری پریڈ‘ پر صدیوں نے کس قسم کے آثار چھوڑے، کون سی جدید عمارتیں اسے گمشدہ بنا رہی ہیں، پیش ہیں کچھ تصویری جھلکیاں:
مزید

گنبد کے پس منظر سے جھانکتا ”فیڈریشن ہاوٴس“۔ جدید اور قدیم وقت کی ایک جھلک
1

گنبد کے پس منظر سے جھانکتا ”فیڈریشن ہاوٴس“۔ جدید اور قدیم وقت کی ایک جھلک

گنبد کا اوپری حصہ اور اس پر بنا ہوا ایک گلدستہ جو پارسی طرز تعمیر سے ملتا جھلتا ہے
2

گنبد کا اوپری حصہ اور اس پر بنا ہوا ایک گلدستہ جو پارسی طرز تعمیر سے ملتا جھلتا ہے

عمارت کے پلرز پر کوئلے سے رقم چند دوستوں کے نام اور پتے  
3

عمارت کے پلرز پر کوئلے سے رقم چند دوستوں کے نام اور پتے

 

عمارت کی سیڑھیوں پر بنی قدیم طرز کی جالیاں
4

عمارت کی سیڑھیوں پر بنی قدیم طرز کی جالیاں

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG