رسائی کے لنکس

logo-print

'لیاری گینگ وار' کا سرغنہ عزیر بلوچ گرفتار


ملزم 2014 میں غیر قانونی دستاویزات کے ساتھ مسقط سے دبئی جاتے ہوئے وہاں گرفتار ہوا تھا، عزیر بلوچ قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر جرائم کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں "لیاری گینگ وار" کے سرغنہ عزیر بلوچ کو سندھ رینجرز نے گرفتار کر لیا ہے۔

عزیر بلوچ قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت دیگر جرائم کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ 2013ء میں بیرون ملک فرار ہو گیا تھا۔

سندھ رینجرز کی طرف سے جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ عزیر بلوچ کو جمعہ کو دیر گئے ایک ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران کراچی میں داخل ہوتے وقت گرفتار کیا گیا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔

کئی سیاستدانوں اور تجزیہ کارروں کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کے بیانات اہم ہوں گے اور اسے پیپلز پارٹی کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کہ کئی رہنما کہہ چکے ہیں کہ اُن کی جماعت کا اب عزیر بلوچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق ملزم 2014 میں غیر قانونی دستاویزات کے ساتھ مسقط سے دبئی جاتے ہوئے وہاں گرفتار ہوا تھا لیکن اسے پاکستان لانے کے لیے کی جانے والی سرکاری کوششیں ناکام رہیں۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ عزیر بلوچ کب اور کیسے پاکستان واپس آیا۔

کراچی کے قدیم علاقوں میں شمار ہونے والے علاقے لیاری میں ایک عرصے سے مختلف جرائم پیشہ گروہ سرگرم رہے ہیں جو قتل، اغوا، بھتہ خوری اور منشیات کا کاروبار کرتے آرہے ہیں۔

یہاں ان گروہوں کے مابین مسلح تصادم بھی ہوتے رہے ہیں جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

تاہم ستمبر 2013ء میں رینجرز اور پولیس کی طرف سے مشترکہ طور پر ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہونے کے بعد سے حالات ماضی کی نسبت بہتر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG