رسائی کے لنکس

logo-print

لیاری : مزید 7 افراد ہلاک ، کمانڈوز تعینات، صوبائی وزیر کا گھر نذ ر آتش


بغدادی اور کلری تھانوں پر شرپسندوں نے آج بھی راکٹ حملے کئے۔ فضا دن بھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ ، دستی بموں اور راکٹ کے دھماکوں سے گونجتی رہی

بدھ کے روز بھی کراچی کی قدیم بستی لیاری میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری رہا۔ بدھ کی صبح اس خوف میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب یہ خبر آئی کہ علاقے میں تازہ دم پولیس کمانڈوز کو بھیج دیا گیا ہے اور اب وہی آپریشن کو کسی منطقی اور حتمی انجام تک پہنچائیں گے۔

ادھر بغدادی اور کلری تھانوں پر شرپسندوں نے آج بھی راکٹ حملے کئے۔ فضا دن بھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ ، دستی بموں اور راکٹ کے دھماکوں سے گونجتی رہی ۔ پر تشدد واقعات میں آج مزید 7 افراد ہلاک ہوگئے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس شرپسند پولیس کیلئے اب بھی سخت مزاحمت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

الصبح پولیس کمانڈوزکے دستے جیسے ہی چیل چوک پہنچے اورپوزشنیں سنبھالیں تو گینگسٹرز نے لی مارکیٹ کے قریب سے فائرنگ شروع کردی۔ افشانی اور نوا لین کی گلیوں میں ملزمان نے کمین گاہیں بنا رکھی ہیں۔ اطراف میں پولیس مورچہ بند ہے۔

مکینوں کی مشکلات
علاقہ باسیوں کو گھروں میں قیدہوئے آج کئی دن گزر گئے۔ان کے پاس خوراک اور دواوٴں کی کمی ہے ۔ گھروں میں بجلی نہیں، روشنی کا متبادل انتظام بھی ختم ہوچکا ہے۔ پانی کی سپلائی کہیں ہے کہیں بالکل نہیں۔ نظام زندگی درھم برہم ہے۔ نہ کھڑکی سے باہر جھانک سکتے ہیں نہ اندر چین ہے۔

علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ علاقے کے بیشتر مرد پچھلے کئی دنوں سے اپنے اپنے کاموں پر نہیں جاسکے ۔ چونکہ علاقے میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد زیادہ ہے لہذا انہیں معاشی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ دن بھر گولیوں اور دھماکوں کی خوفناک گونج چھائی رہتی ہے جبکہ رات ہوتے ہیں نئے سرے سے دھماکوں اور گولیوں کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔ایک مکین عبدالشکور نظامانی نے بتایا کہ کل پرسوں سے ایک نئی پریشانی کھڑی ہوگئی ہے ۔ گلیوں اور سڑکوں پر کچروں کے ڈھیر لگ گئے ہیں جن سے تعفن اٹھنے لگاہے۔ بدبو کی وجہ سے کیڑے مکوڑے تو پیدا ہو ہی رہے ہیں ،بیماریاں پھوٹنے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

نویں کا پرچہ ملتوی
علاقے کے تمام اسکول اور کالج بدھ کو بھی بند رہے جبکہ نویں کلاس کا آج ہونے والا بائیولوجی کا پرچہ بھی پچھلے کئی پرچوں کی طرح ملتوی کردیا گیا۔ اس صورتحال میں میٹرک کے طلبا شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔

صوبائی وزیر کا گھر نذر آتش
ادھر شام کے وقت پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر رفیق انجینئر کے گھرکو بھی آگ لگا دی گئی جبکہ اس دوران دن بھر پورے علاقے میں شدید فائرنگ ہوتی رہی۔ فائرنگ اور دھماکوں سے مکین شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہوگئے ہیں۔علاقے سے بے شمار لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں لیکن جو لوگ کسی مجبوری کے سبب محفوظ مقامات کی طرف نہیں جاسکے وہ سہمے ہوئے ہیں۔

جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے حمایت کا اعلان
جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی صدر نوابزادہ طلال اکبر بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں لیاری کے بلوچوں کی ہرممکن امداد کا یقین دلاتے ہوئے آپریشن روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مبصرین نے ان کے بیان کو نیک شگون قرار نہیں دیا بلکہ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کہیں اس قسم کے بیانات جرائم پیشہ افراد کو ’حوصلہ‘ دینے کا سبب نہ بن جائیں۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تبائی جارہی ہے کہ پچھلے ہفتے بلوچستان کی ایک تنظیم نے اعتراف کیا تھا کہ لیاری کے واقعات میں اس کا جزوی کردار رہا ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ اگرواقعی یہ بات سچ ہے تو لیاری کا مسئلہ جلد حل ہونے والا نہیں۔

متاثرین کے لئے مالی امداد کا صدارتی اعلان
تیسری جانب صدرآصف علی زرداری نے لیاری میں شر پسندوں کی جانب سے گھروں کو نذر آتش کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرین کو فی کس دس ہزار روپے دینے کی ہدایت کی ہے۔

صدر نے لیاری میں نقصان کے ازالے کیلئے کمشنر اور ڈی سی ساؤتھ کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ صدر نے ہدایت کی ہے کہ لیاری میں قیام امن کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں ۔ تاہم صدر کا کہنا ہے کہ شر پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

XS
SM
MD
LG