رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: طالبان کا فوج کی گاڑی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ


کراچی میں صدر کے علاقے پارکنگ پلازہ میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فوج کے گاڑی پر فائرنگ کی تھی اور متعدد گولیاں لگنے کے باعث لانس نائیک رزاق اور سپاہی خادم دم توڑ گئے۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں منگل کو فوج کی ایک گاڑی پر حملے میں دو اہلکاروں کے مارے جانے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جماعت الحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ذرائع ابلاغ کو بھیجے گئے ایک پیغام میں دعویٰ کیا کہ طالبان نے فوج کے دو اہلکاروں کو ہدف بنایا۔

واضح رہے کہ کراچی میں صدر کے علاقے پارکنگ پلازہ میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے فوج کے گاڑی پر فائرنگ کی تھی اور متعدد گولیاں لگنے کے باعث لانس نائیک رزاق اور سپاہی خادم دم توڑ گئے۔

اگرچہ فوج کی گاڑی پر حملے سے متعلق طالبان کے دعویٰ کی آزاد ذرائع سے تصدیق تو نہیں ہو سکی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے ایک بات کی عکاسی ضرور ہوتی ہے کہ شہری علاقوں میں بھی دہشت گرد چھپے ہوئے ضرور ہیں۔

تجزیہ کار بریگیڈئیر ریٹائرڈ سعد نذیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ کراچی میں اگرچہ صورت حال پہلے سے بہتر ہوئی ہے لیکن اُن کے بقول یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ شہر سے دہشت گردوں یا اُن کے حامیوں کا مکمل صفایا کر دیا گیا ہے۔

’’دہشت گردوں کی قابلیت میں کافی کمی آئی ہے، لیکن یہ کہنا کہ وہ بالکل ختم ہو گئے ہیں درست نہیں ہے۔‘‘

کراچی میں رینجرز کی زیر قیادت دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیوں کے باعث ملک کے اس ساحلی شہر میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں شدت پسندوں نے نا صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا بلکہ معروف قوال امجد صابری کو بھی دن دھاڑے قتل کیا گیا جب کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کو بھی اغوا کیا گیا جنہیں تقریباً ایک ماہ بعد صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے ٹانک سے بازیاب کروایا گیا۔

XS
SM
MD
LG