رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: رواں سال کے دوسرے ماہ بھی امن قائم نہ ہوسکا


گزشتہ ماہ شہر میں مختلف علاقوں میں قتل کی وارداتیں عام رہیں جبکہ دہشتگردی کی دیگر وارداتوں سمیت 5 بم دھماکے اور 18 کریکر حملے کئے گئے۔

روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی دہشتگردوں کی کارروائیوں سے محفوظ نہیں جس کے باعث شہر کی روشنیاں ماند پڑگئیں ہیں۔ گزشہ ماہ فروری کے دوران شہر میں 220 افراد قتل ہوئے۔ ان میں عام شہریوں سمیت پولیس اہلکار، سیاسی جماعت کے کارکنان بھی شامل ہیں جن کی زندگی کے چراغ گل ہوئے۔

گزشتہ ماہ کراچی شہر میں مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات اور قتل کی وارداتیں عام رہیں جبکہ دہشتگردی کی دیگر وارداتوں سمیت 5 بم دھماکے اور 18 کریکر حملے کئے گئے جس میں شہریوں سمیت پولیس تھانوں اور پولیس موبائلوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

رواں سال کے ابتدائی دو ماہ میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد 460 تک پہنچ گئی ہے اتنی بڑی تعداد میں قتل کی وارداتیں شہر میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں۔

شہر میں امن و امان کی صورتحال پر وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں سٹیزن پولیس لیزاں کمیٹی کے چیف احمد چنائے نے کہا ہے کہ ’’ شہر میں امن ومان کی صورتحال بہتر بنانے میں سیکیورٹی ادارے اپنا کام کررہے ہیں۔ رواں ماہ 220 افراد کے قتل کی تمام تر وارداتیں صرف ٹارگٹ کلنگ نہیں بلکہ ان میں ذاتی دشمنی میں کیے جانےوالے قتل، ڈکیتی اور جرائم کی دیگر وارداتوں کے دوران ہونےوالی ہلاکتیں بھی ہیں جن میں ہمارے پولیس کے اہلکار بھی قتل ہوئے ہیں۔‘‘

کراچی کے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے احمد چنائے نے بتایا کہ’’ یہ غیر محفوظ شہر نہیں عام لحاظ سے شہری محفوظ ہیں۔ کراچی کے تمام علاقے غیر محفوظ نہیں جبکہ شہر کےکچھ علاقے نہایت حساس ہیں جہاں جرائم کی وارداتیں دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہیں۔‘‘

ان کے بقول متاثرہ علاقوں میں جرائم کی وارداتوں کو ختم کرنے کیلئے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے شہر میں امن و امان کی صورت کو بہتر بنانے کیلئے مزید اقدامات کئے جارہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG