رسائی کے لنکس

logo-print

نیا ہفتہ شروع، کراچی سیاسی و انتخابی خبروں کا ’گڑھ‘ ہوگا


سیاسی پارٹیوں کا ایک دوسرے کے خلاف ابھی سے ’پارہ‘ ہائی ہوگیا ہے۔ اس کا ثبوت پیر کی شام لائنز ایریا میں متحدہ کی ریلی پر مخالف جماعتوں کا پتھراوٴ اور اس کے نتیجے میں زخمی ہوجانے والے افراد ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی، پتھراوٴ اور جھڑپیں ہفتے اور اتوار کو بھی ہوئیں۔

کراچی کے لئے آج سے شروع ہونے والا نیا ہفتہ سیاسی اور انتخابی خبروں سے لبریز نظر آرہا ہے۔ صرف 2 دن بعد کراچی کے دو حلقوں این اے 245 اور پی ایس 115 میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں اور الیکشن کمیشن نے ان حلقوں میں قائم کئے جانے والے 90 فیصد پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے این اے 245 کے 33 پولیس اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور 124 کو حساس جبکہ صرف 17پولنگ اسٹیشن کو ’نارمل‘ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح پی ایس 115 میں 66 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس، 14 کو حساس اور صرف تین کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔

یہ نوے فیصد پولنگ اسٹیشنز امن و امان کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہ پیدا کر سکیں اس لئے الیکشن کمیشن نے ایک جانب رینجرز کی نگرانی میں انتخابات کرانے کے لئے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے تو دوسری جانب یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ پولنگ والے دن یعنی جمعرات 7 اپریل کو تمام پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر پولیس و رینجرزکی بھاری نفری تعینات رہے گی۔

الیکشن کمیشن نے دونوں حلقوں کے لیے سیکورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی ہے اور انتخابی ضابطہ اخلاق بھی جاری کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان صوبائی الیکشن کمشنر تنویر ذکی نے کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا۔

ان کے مطابق ہر ’انتہائی حساس‘ پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر پولیس اور رینجرز کے 13 اہلکار اور ہر ’حساس‘ پولیس اسٹیشن پر سات اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ تاہم، ضرورت کے مطابق، تعینات کئے جانے والے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جاسکے گا۔“

سیاسی جماعتوں کا ’پارہ ہائی‘، آپسی جھگڑوں کا تیسرا دن
سیاسی پارٹیوں کا ایک دوسرے کے خلاف ابھی سے ’پارہ‘ ہائی ہوگیا ہے۔ اس کا ثبوت پیر کی شام لائنز ایریا میں متحدہ کی ریلی پر مخالف جماعتوں کا پتھراوٴ اور اس کے نتیجے میں زخمی ہوجانے والے افراد ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی، پتھراوٴ اور جھڑپیں ہفتے اور اتوار کو بھی ہوئیں۔

اتوار کو بھی لائنز ایریا میں ہی متحدہ اور مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کے درمیان پتھراوٴ اور جلاوٴ ہوا، جبکہ ہفتے کو نارتھ ناظم آباد کے حلقے حیدری مارکیٹ میں بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آیا، جہاں معمولی سی بات پر تکرار اس حد تک بڑھی کہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے درمیان پتھراؤ اور ہوائی فائرنگ شروع ہوگئی۔ واقعے میں چار افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس اور رینجرز کو حرکت میں آنا پڑا۔

گھر گھر انتخابی مہم میں متحدہ کی پہل
این اے 245 کے ضمنی الیکشن میں متحدہ قومی موومنٹ کے نامزد امیدوار محمد کمال کی انتخابی مہم کے سلسلے میں حلقے کے مختلف علاقوں میں پارٹی ورکز اور اراکین نے گھر گھر جاکر عوام سے ایم کیو ایم کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے رابطہ مہم میں حصہ لیا۔ اس دوران انتخابی پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔ایم کیو ایم گھر گھر انتخابی مہم میں پہل کرنے کے معاملے میں دوسری جماعتوں سے برتری لے گئی۔

پتنگ میلہ
متحدہ قومی موومنٹ کے زیرا ہتمام لائینز ایریا میں ہی پتنگ میلہ منعقد ہوا، جبکہ حلقے میں انتخابی ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ پتنگ میلہ اور انتخابی ریلیوں میں نامزد حق پرست امیدوار برائے پی ایس 115فیصل رفیق، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فوزیہ حمید، سندھ اسمبلی محمود عبد الرزاق، وقار شاہ اور نامزد میئر کراچی وسیم اختر نے بھی شرکت کی۔

تیسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی درخواست پر جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مولانا عبدالرشید نعمانی پی پی کے امیدوار شاہد حسین کی حمایت میں انتخابات سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG