رسائی کے لنکس

کراچی میں جھولا گرنے سے نو عمر لڑکی ہلاک


کراچی کے عسکری پارک کا ایک بلند و بالا جھولا۔
کراچی کے عسکری پارک کا ایک بلند و بالا جھولا۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جھولا بولٹ ٹوٹنے اور گراریاں سلپ ہونے کے سبب گرا۔

کراچی کے ایک تفریحی پارک میں اتوار کو رات گئے جھولا گرنے سے اس میں سوار ایک نوعمر لڑکی کشف ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہو گئے۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جھولا بولٹ ٹوٹنے اور گراریاں سلپ ہونے کے سبب گرا۔

حادثہ گلشن اقبال ٹاؤن میں مین یونیورسٹی روڈ پرپرانی سبزی منڈی کی جگہ ایک ماہ قبل قائم ہونے والے عسکری پارک میں پیش آیا۔

عسکری پارک کا ایک منظر
عسکری پارک کا ایک منظر

چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے پارک میں لوگوں کا رش تھا۔ حادثے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ صورت حال کو قابو پانے کے لئے رینجرز اور پولیس کو طلب کیا گیا جبکہ امدادی ٹیمیں بھی پارک میں پہنچ گئیں۔

سندھ کے نگراں وزیر اعلیٰ فضل الرحمٰن نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی صالح فاروقی سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہےجبکہ عسکری پارک کو سیل کردیا گیا ہے اور شہر کے باقی پارکوں کے جھولوں کو بھی تین دن بند رکھنے اور متعلق حکام کو ان کا معائنہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں

پیر کو سانحے سے متعلق اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ گرنے والے جھولے کی اونچائی 20 سے 30 فٹ تھی۔جھولا بولٹ ٹوٹنے اور گراریاں سلپ ہونے کے سبب اچانک گر گیا۔

عسکری امیوزمنٹ پارک کے ایک شیئرہولڈر زبیر طفیل کے مطابق جھولے کے تمام بولٹ ٹوٹ گئے تھے اور گراریاں سلپ ہو گئی تھیں۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام بولٹ کا ایک ساتھ ٹوٹنا خارج ازامکان ہے۔ زیبر نے بتایا کہ انہوں نے چینی کمپنی کے انجینئرز کو بھی طلب کر لیا ہے۔

عسکری پارک کا ایک اور منظر
عسکری پارک کا ایک اور منظر

پارک کا افتتاح ایک ماہ پہلے رمضان میں ہوا تھا اور مقامی میڈیا کو بھی افتتاحی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب عید سے ایک یا دو روز قبل منعقد ہوئی تھی جبکہ پبلک کے لئے یہ پارک 16جون کوعیدالفطر کے دن کھولا گیا تھا۔ جبکہ گرنے والا جھولا ایک ہفتے قبل ہی کھولا گیا تھا۔ مقامی انجینئرز نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ20 بولٹ بیک وقت اور اچانک کس طرح ٹوٹ گئے۔

حادثے کے بعد پارک کی انتظامیہ نے میڈیا نمائندوں کو اندر جانے سے روک دیا اور پارک کے دروازے بھی بند کردیئے۔ تاہم میڈیا سے بات چیت میں میئر کراچی وسیم اختر نے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جبکہ کمشنر کراچی صالح فاروقی نے کہا ہے کہ آپریشن مکمل ہونے تک پارک نہیں کھولا جائے گا۔

شہری حکومت کے اداروں نے پارک کی ملکیت سے انکارکر دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ میونسپل کمشنرضلع شرقی اختر شیخ کا کہنا ہے عسکری پارک ضلع شرقی کی ملکیت نہیں۔

سن 2004 تک یہاں شہر کی سب سے بڑی سبزی منڈی ہوا کرتی تھی جو سپرہائی پر منتقل کر دی گئی جس کے بعد اس زمین کو اس وقت کے سٹی ناظم نے پارک تعمیر کرنے کی غرض سے عسکری ادارے کی نگرانی میں دے دیا۔ پہلے اس پر ایک ریسٹورنٹ پھر شادی ہالز اور دو ماہ قبل جھولے لگادیئے گئے۔

عمومی طور پر حادثے کا ذمے دار پارک انتظامیہ کی لاپرواہی کو ٹھہرایا جارہا ہے کیوں کہ ایک اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حادثے کا شکار ہونے والا جھولا ٹرائل پر تھا اور اس کی حتمی جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG