رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں ہر روز900 گاڑیوں کا اضافہ ، سڑکیں تنگ ہوگئیں


شہر میں جدھر بھی چلے جائیے راستے تنگ نظر آتے ہیں اور گلیاں ایک دوسرے سے ’دست و گریبان ‘ہوتی محسوس ہوتی ہیں ۔ بیشتر مقامات پر لگتا ہے گاڑیاں دکانوں کو چھو کر گزر رہی ہیں ۔ کبھی یوں لگتا ہے کہ جیسا گاڑی کسی دکان کے اندر ہی نہ آجائے۔

کراچی تقریباً دو کروڑ کی آبادی رکھنے والا پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اسے بڑھتی ہوئی آباد ی ہی نہیں ،بلکہ سال بھر بڑھتے ٹریفک کے بھی کئی سنگین مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

شہر ی آبادی میں بے ہنگم اضافے کے سبب نئی سڑکیں بنانے کی گنجائش ختم ہوچکی ہے ۔ شہر میں جدھر بھی چلے جائیے راستے تنگ نظر آتے ہیں اور گلیاں ایک دوسرے سے ’دست و گریبان ‘ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ بیشتر مقامات پرایسے لگتا ہے کہ گاڑیاں دکانوں کو چھو کر گزر رہی ہیں ۔ کبھی یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ گاڑی کسی دکان کے اندر ہی نہ آجائے۔

اولڈ سٹی ایریاز ، ایم اے جناح روڈ ، صدر نیو ایم اے جناح روڈ، طارق روڈ ، حیدری مارکیٹ نارتھ ناظم آباد وغیرہ اس کی مثالیں ہین۔

ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کا کہنا ہے ’’شہر میں38 لاکھ گاڑیاں چل رہی ہیں اور اس میں ہر روز 900 گاڑیوں کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ شہر میں ٹریفک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لئے کوئی ٹھوس نظام زیر غور نہیں۔۔ یہی وجہ ہے کہ شہرمیں ٹریفک جام معمول بنتا جارہا ہے۔‘‘

واضح ہے کہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی تعداد کم پڑ گئی ہے۔ ٹریفک کے دباؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے آئندہ مزید فورس کی ضرورت ہوگی۔

ماہر ماحولیات اور محکمہ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر توصیف احمد نے وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ شہر میں صبح ہوتی نہیں کہ گاڑیوں کا سیلاب سڑکوں پر امڈ آتا ہے اور دن کے آغاز کے ساتھ ہی ٹریفک جام ہونے لگتا ہے ۔ فضاء زہریلے دھویں سے بھرنے لگتی ہے جو انسانی صحت کے ساتھ ساتھ حیوانات اورشہر کی خوب صورتی میں اضافہ کرنے والے سبزہ زاروں کے لئے بھی ’خاموش موت‘ کا سبب بن رہا ہے۔ ‘‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’انگنت گاڑیوں کے انجنوں کا شور انسانی سماعت کو مسلسل ’زخمی‘ کررہا ہے ۔ ایسے میں گاڑیوں کے ہارنز کانوں پر گراں نہ گزریں ، یہ ہو نہیں سکتا۔ پھر شہر میں امن و امان کی صورت حال ایمبولینسز کی تعداد میں اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔ اس پر ٹریفک جام میں اپنا راستہ بنانے کے لیے ’چیختی چلاتی ‘ ایمبولیسز کا شور دل دہلا دیتا ہے۔‘‘

شہر میں اگر کوئی وی آئی پی سڑکوں سے گزرنے لگے تو شاہراہیں محض ’پروٹوکول‘کے سبب کئی کئی گھنٹوں تک جام ہو جاتی ہیں۔ اس وی آئی پی کلچر کے سندھ ہائی کورٹ میں باقاعدہ درخواستیں زیر سماعت ہیں ۔

واقعات گواہ ہیں کہ وی آئی پی موومنٹ کی آمد کے موقع پر ٹریفک کی بندش کے سبب کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔گنجان آبادی میں ٹریفک پھنستا ہے تو ایمبولیسز بھی جام ہوجاتی اور ڈرائیور چیختا ہی رہ جاتا ہے ۔

ان ڈھیر سارے مسائل کے باوجود شہر میں بہتر ٹریفک مینجمنٹ آج تک ایک سنہرا خواب بنا ہوا ہے۔ یہ خواب کب پورا ہوگا یہ بھی کوئی نہیں بتاسکتا۔ لیکن جس دن بھی یہ خواب پورا ہوا کراچی دنیا کے دیگر میٹروپولیٹن شہروں کے مقابلے آ کھڑا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG