رسائی کے لنکس

logo-print

امتحان میں شرکت کی اجازت نہ ملنے پر طالب علم کی خود سوزی


پولیس نے خودسوزی کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ عبدالباسط کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے خودسوزی نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عبدالباسط کو جلایا گیا ہے

کراچی ... سندھ کے دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں بی ڈی ایس کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم عبدالباسط نے امتحان میں شرکت کی اجازت نہ ملنے پر مبینہ طور پر خود کو آگ لگالی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

واقعہ ہمدرد یونیورسٹی کے نارتھ ناظم آباد کیمپس میں پیش آیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ عبدالباسط بی ڈی ایس کے فائنل ایئر کا طالب علم تھا۔ اسے مبینہ طور پر امتحان میں تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے پیپر نہیں دینے دیا گیا جس پر طالب علم نے مبینہ طور پر پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی۔ اسے جھلسی ہوئی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں منگل کو اس کا انتقال ہوگیا۔

سینئر میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر نثار شاہ کا کہنا ہے کہ عبدالباسط کا جسم 86 فیصد تک جھلس چکا تھا، جسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ لیکن، بالآخر موت جیت گئی اور زندگی ہار گئی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عبدالباسط پیر کا وقت ختم ہونے کے بعد یونیورسٹی آیا تھا۔ معاملے کی تحقیقات کے لئے ڈی آئی جی ویسٹ فیروز شاہ نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تین دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ادھر گورنر سندھ نے نجی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ابرار نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ عبدالباسط پیپر ختم ہونے کے بھی آدھے گھنٹے بعد یونیورسٹی پہنچا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عبدالباسط سنہ 2007 سے بی ڈی ایس کا طالبعلم تھا اور پچھلے سات سالوں سے مسلسل فیل ہو رہا تھا۔

’وی او اے‘ کے نمائندے نے جب عبدالباسط کے اہل خانہ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ عبدالباسط کی گاڑی گھر سے یونیورسٹی جاتے ہوئے خراب ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہ کچھ دیر لیٹ ہواجس پر انتظامیہ نے اسے امتحانی کمرے میں داخل تک نہیں ہونے دیا گیا۔

عبدالباسط سی پی ای سی ایچ بلاک 2کا رہائشی تھا، جبکہ منگل کی سہ پہر اسے اسی سوسائٹی کے قبرستان میں زیرخاک ہمیشہ کے لئے سلا دیا گیا۔

پولیس نے خودسوزی کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ عبدالباسط کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے خودسوزی نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عبدالباسط کو جلایا گیا ہے۔

عبدالباسط کے بھائی کا کہنا ہے کہ اسے ماڈلنگ کا شوق تھا اور جلد ہی شادی کے سلسلے میں اس کا رشتہ طے ہونے والا تھا۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے واقعے کی تحقیقات کیلئے ڈی ایس پی شادمان، ایس ایچ او تیموریہ اور ایس آئی او تیموریہ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تین روز میں تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔

XS
SM
MD
LG