رسائی کے لنکس

logo-print

کیا موسمیاتی تبدیلیاں کراچی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں؟


محکمہ موسمیات نے تصدیق کی ہے کہ رواں سال مون سون بارشوں کا سلسلہ کراچی کی تاریخ کا آٹھواں بڑا اسپیل تھا جس میں 310 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین موسمیات کے مطابق اس سے قبل 1959 میں شہر میں سب سے زیادہ 597 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں میں اضافے سے ثابت ہو گیا ہے کہ کراچی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر آ گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کے بقول، انہیں غیر معمولی بارشیں نہیں کہا جا سکتا، کیوں کہ شہر میں ہر جگہ یکساں بارش نہیں ہوئی۔ بعض علاقوں میں بوندا باندی ہوئی تو کہیں تیز بارش نے جل تھل ایک کر دیا۔

محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تین ماہ یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران اب تک 310 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ مون سون تقریباً ختم ہو گیا ہے۔ تاہم، محکمے نے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

زیادہ بارشوں کی وجہ کیا ہے؟

سردار سرفراز کے مطابق، مون سون کے دوران بھارت میں بننے والا ہوا کا کم دباؤ پاکستان پہنچ کر زیادہ بارشوں کا سبب بنا۔ ان کے بقول، بھارتی ریاست گجرات اور بحیرہ عرب میں بننے والا ہوا کا کم دباؤ بھی پاکستان میں بارشوں کی اہم وجہ بنا۔

سردار سرفراز کے مطابق، ہوا کا کم دباؤ راجستھان سے ہوتا ہوا سندھ تک پہنچا تو اس کے نتیجے میں سمندری ہوائیں بند ہو گئیں۔ اس لیے صبح سے لے کر دوپہر تک شہر میں شدید گرمی پڑتی تھی اور سہ پہر میں بارش شروع ہو جاتی کیوں کہ اس دوران موسم مرطوب رہتا تھا۔

کراچی میں رواں سال زیادہ بارشوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
کراچی میں رواں سال زیادہ بارشوں کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

اربن فلڈ سے کیا مراد ہے؟

ماہرین کے مطابق، اربن فلڈ سے مراد ایسے شہری علاقے ہیں جہاں نکاسی آب کے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کے باعث وہاں کے ندی نالے جلدی بھر جائیں اور پھر یہ پانی رہائشی علاقوں میں جمع ہو جائے۔

امریکی ریاست مشی گن کی یونیورسٹی سے ہائیڈرولوجی اور واٹر ریسورسز میں پی ایچ ڈی کرنے والے حسن عباس نے وائس آف امریکہ سے بات چیت میں کہا کہ اربن فلڈنگ کے ذریعے بارش کا پانی زحمت کے بجائے رحمت بھی بن سکتا ہے۔ ان کے بقول، دنیا بھر میں ایسے بہت سے ہائیڈرولوجیکل طریقے قابل عمل ہیں جن کے ذریعے یہی پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔

حسن عباس کہتے ہیں کہ دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح کراچی میں بھی مخصوص طریقے اختیار کرکے خشک کنوؤں کو پھر سے آبی ذخیرے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں تالاب اور ندیاں بنائی جا سکتی ہیں جہاں بارش کا پانی اکھٹا کیا جا سکتا ہے۔ ان میں اربن فلڈنگ کے نتیجے میں جمع ہوجانے والا پانی بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ اس سے ایک جانب اضافی پانی محفوظ ہو جائے گا تو دوسری طرف ضرورت کے وقت اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیا زیادہ بارشوں کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے؟

جامعہ کراچی کے شعبہ ماحولیات سے وابستہ ڈاکٹر وقار کے مطابق پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں سے مثاثر ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پانی کی کمی ہو یا سیلاب آجائے سب سے زیادہ زرعی شعبہ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ نارتھ اور ساؤتھ پول کے بعد پاکستان کے شمال میں سب سے زیادہ گلیشئیرز پائے جاتے ہیں۔ ان کے بقول، اسی وجہ سے ان علاقوں کو تھرڈ پول کہا جاتا ہے۔ لیکن، اسے بھی موسمی تبدیلیوں کے باعث خطرہ لاحق ہے۔

کراچی میں 2015 میں شدید گرمی کی لہر سے سیکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
کراچی میں 2015 میں شدید گرمی کی لہر سے سیکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر وقار اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ ان گلیشئیرز کے پگھلنے سے زیادہ سیلاب آئیں گے، جب کہ دیگر خطرناک تبدیلیاں اس کے علاوہ ہیں۔

ڈاکٹر وقار کے مطابق، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے سبب دنیا کے مختلف ممالک میں زیادہ طوفان اور سیلاب آ رہے ہیں۔ ہیٹ ویو یعنی گرمی کی شدید لہر بھی اب ایک معمول کی بات ہے۔ کراچی بھی 2015 سے ہیٹ ویو کا سامنا کرتا آرہا ہے بلاشبہ یہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔

ڈاکٹر وقار کہتے ہیں کہ کراچی شہر کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے لاتعداد گاڑیاں اور ان میں استعمال ہونے والا ایندھن، صنعتوں سے خارج ہونے والا دھواں بھی درجہ حرارت کو بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ ڈاکٹر وقار کہتے ہیں کہ یہ شہر بغیر کسی منصوبہ بندی کے پھیل رہا ہے اور جہاں آبادی زیادہ ہو گی وہاں مسائل بھی بڑھیں گے اور یہ عوامل موسم پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG