رسائی کے لنکس

کراچی: پکنک پر جانے والے 12 افراد سمندر میں ڈوب گئے


تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ یہ افراد ہفتے کی صبح پکنک منانے ہاکس بے گئے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایک دوسرے کو سمندر کی تیز لہروں سے بچانے کی کوشش میں خود بھی جان گنوا بیٹھے۔

کراچی میں ہاکس بے کے ساحل پر پکنک منانے کی غرض سے جانے والے ایک ہی خاندان کے 12 افراد سمندر میں ڈوب گئے۔مرنے والے افراد میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

رفاعی ادارے ایدھی ٹرسٹ کے مطابق ''تمام افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں''۔

تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ یہ افراد ہفتے کی صبح ناظم آباد اور شادمان ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں سے ایک ساتھ پکنک منانے گئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایک دوسرے کو سمندر کی تیز لہروں سے بچانے کی کوشش میں خود بھی جان گنوا بیٹھے۔

’لائف گارڈز‘ کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والے دو افراد کو زندہ بچالیا گیا۔ ''تاہم، وہ اسپتال میں داخل ہیں۔ ان کے پیٹ میں پانی بھر گیا ہے اور ڈاکٹرز انہیں بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں''۔

ایدھی ٹرسٹ سمیت مختلف ریسکیو اداروں کے غوطہ خوروں کا کہنا ہے کہ’'واقعہ لمحوں میں پیش آیا۔ پکنک پر جانے والے افراد کو بار بار لہروں سے دور رہنے اور گہرے پانی میں نہ جانے کی تاکید کی جاتی رہتی ہے لیکن نہانے کا شوق اکثر ایسے حادثات کو جنم دیتا ہے۔‘'

ایدھی ٹرسٹ کے لائف گارڈز کے مطابق، ’’ان دنوں ویسے بھی سمیت’چڑھا‘ ہوا ہے اور لہریں بہت ’منہ زور‘ ہیں، وہ سب کچھ بہا کر اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔‘‘

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا سمندر میں نہانے پر اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو اس پر عمل درآمد کیوں کر نہیں کرایا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے واقعہ کی تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں، جبکہ واقعے پر افسوس کا اظہار اور متاثرہ خاندان سے ہمدردی اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ڈوبنے والے افراد کا تعلق کراچی کے علاقوں شادمان ٹاؤن اور ناظم آباد سے تھا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کیماڑی نے مرنے والوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ ساحل پر دفعہ 144 نافذ تھی اور لوگوں کا کھلے سمندر میں جانا اور نہانا منع تھا۔ مرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس عہدیدار کا کہنا ہے کہ سمندر کی لہریں ''بہت تیز تھیں'' اور ''ڈوبنے والوں کو آگے نہ بڑھنے کی تننبہ کردی گئی تھی۔ لیکن، انہوں نے کوئی احتیاط نہیں برتی اور پابندی کو نظر انداز کردیا جس کے نتیجے میں یہ سانحہ پیش آیا''۔

مرنے والوں کی شناخت عاطف، حمزہ، عباد، وہاج، سعود، طحہ، علی ضمی، فضاٗ کے نام سے ہوئی ہے۔

ادھر، راجہ محمد ثاقب نے ریسکیو اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈوبنے والوں کی عمریں 17 سے50 سال کے درمیان تھیں۔ حکام کے مطابق نکالی جانے والی لاشوں میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ڈوب کر ہلاک ہونے والے تمام افراد کی لاشیں کراچی کے سول ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں جہاں سے یہ لاشیں شناخت کے بعد ورثاٗ کے حوالے کی جائیں گی۔

مون سون کے موسم میں عام طور پر سمندر کی اونچی لہروں کے باعث انتظامیہ کی جانب سے نہانے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے جس کی خلاف ورزی عام نظر آتی ہے۔ دوسری جانب ریسکیو کے ناکافی انتظامات اور لائف گارڈز کی کمی کے باعث اس موسم میں اکثر ایسے جانی نقصان سامنے آتے ہیں۔

تین سال قبل بھی کراچی میں عید کے موقع پر 36 سے زائد افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں سے بیشتر کی لاشیں سمندر سے ہیلی کاپٹرز اور غوطہ خوروں کی مدد سے نکالی گئی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG