رسائی کے لنکس

کراچی میں تشدد کی نئی لہر، 12 ہلاک


کراچی میں تشدد کی نئی لہر، 12 ہلاک
کراچی میں تشدد کی نئی لہر، 12 ہلاک

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہدف بنا کر قتل کے مختلف واقعات میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی شاہ رگ کہلانے والے شہر میں تشدد کی تازہ لہر کا آغاز پیر کی شب ہوا اور مارے گئے افراد میں حکمران پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا کم از کم ایک ایک کارکن شامل ہے۔

تشدد سے متاثرہ کراچی کے وسطی اور مغربی علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی فورس رینجرز کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے اراکین پارلیمان نے کراچی میں ہدف بنا کر قتل کے تازہ واقعات کے خلاف احتجاج کے علاوہ اجلاس سے علامتی واک آؤٹ کیا۔

ایوان میں اپنی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں خصوصاً اورنگی ٹاؤن میں امن و امان کی صورت حال روز بروز بگڑتی جا رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس علاقے سے متحدہ قومی موومنٹ کے تین صوبائی اراکین پارلیمان حالات خراب ہونے کی وجہ سے منگل کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں نکل سکے۔

صوبہ سندھ میں قائم مخلوط حکومت کی قیادت کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی کو بظاہر مورد الزام ٹھہراتے ہوئے حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ایم کیوایم نے کئی مرتبہ اپنی تشویش کا اظہار کیا لیکن اس کا سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا گیا۔

”ہم نے بار بار اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کیا اُن تمام لوگوں کی طرف سے جو بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہو کر کراچی کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ “ حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اگر کراچی میں جان بوجھ کر یہ صورت حال پیدا کی جاتی رہی تو اس کے ناصرف ملکی معیشت پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ یہ سیاسی جماعتوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہو گی۔

کراچی میں تشدد کی تازہ لہر پر حکمران پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر دہشت گردی، انتہاپسندی اور ہدف بنا کر قتل کے واقعات کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ ”اس پر کوئی دو رائے نہیں کہ کوئی کر رہا ہے اور کوئی نہیں کر رہا ہے، ہم سب مل کر اُس کے خلاف کام کر رہے ہیں۔“

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

وزیر اعظم گیلانی نے کراچی میں بدامنی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے گورنر عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے اس بارے میں رپورٹ طلب کی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ امن و امان ایک صوبائی معاملہ ہے وفاقی حکومت براہ راست اس میں دخل اندازی نہیں کر سکتی ہے۔

کراچی میں ماضی میں بھی سیاسی اور نسلی بنیادوں ہلاکت خیز فسادات ہوتے رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ لسانی بنیادوں پر قائم جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان روایتی طور پر تناؤ پایا جاتا ہے جب کہ ان جماعتوں سمیت حکمران پیپلز پارٹی کی طرف سے شہر میں اپنی سیاسی گرفت مضبوط بنانے کی کوششیں کشیدگی کا باعث بنتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG