رسائی کے لنکس

logo-print

'کارگل کی جنگ پاکستان سفارتی محاذ پر ہارا'


پاکستانی فوجی کارگل کی دوسری جانب پاکستانی کنٹرول کے علاقے میں مورچہ بند ہیں۔ جولائی 1999

پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل کی چوٹیوں پر 1999 میں لڑی جانے والی لڑائی کو 20 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس معرکہ پر دونوں ممالک اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن سفارتی محاذ پر اس جنگ میں پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اسے کارگل کی چوٹیوں پر بھیجے گئے جنگجوؤں اور اپنی فوج کو واپس بلانا پڑا۔ بیس سال مکمل ہونے پر بھارت اس دن کو جشن کی طرح منا رہا ہے جب کہ پاکستان میں خاموشی ہے۔

کارگل کی پہاڑیوں کی برفیلی چوٹیوں پر بھارتی فوج ہر سال سازگار موسم میں قبضہ کر لیتی تھی اور سرما کی شدت کے آغاز میں انہیں چھوڑ کر میدانی علاقوں کی طرف چلی جاتی تھی۔

فروری 1999ء کے اوائل میں جب ابھی بھارتی فوج اس علاقے میں واپس نہیں آئی تھی تو پاکستانی فوج کی ناردرن لائٹ انفنٹری اور پاکستان کے مطابق ’مجاہدین‘ نے ان پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔

اس قبضے کے کافی عرصے بعد تک بھارتی افواج اور ان کی خفیہ ایجنسیاں اس صورت حال سے بے خبر رہیں۔ تاہم موسم گرما میں جب انہیں اس مہم جوئی کا پتا چلا تو پھر قبضہ چھڑانے کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان شدید جنگ ہوئی، جس میں بھارت نے اپنی فضائیہ کو بھی استعمال کیا۔

کیا پاکستان یہ جنگ ہار گیا؟؟ اس پر تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کہتے ہیں کہ پاکستان یہ جنگ نہیں ہارا بلکہ سفارتی سطح پر پاکستان نے دباؤ کے تحت سرینڈر کیا۔

’اس وقت پاکستان کی سیاسی حکومت اور فوج ایک پیج پر نہیں تھی اور دونوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا اثر اس مہم پر بھی پڑا اور امریکی صدر کلنٹن کے دباؤ پر پاکستان کو فوجوں کو واپس بلانے کا مطالبہ ماننا پڑا‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان یہ جنگ ہار گیا۔ بھارت پاکستانی فوج کو اس علاقے سے بزور طاقت نہیں نکال سکا، لیکن سفارتی مہم کے ذریعے پاکستان ازخود اس علاقہ سے نکلا۔

اس جنگ کے 20 سال مکمل ہونے پر بھارت میں کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے، جب کہ پاکستان میں اس پر مکمل خاموشی ہے۔ کسی حکومتی یا فوجی ترجمان کی طرف سے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

اس جنگ سے منسلک دو اہم شخصیات اس وقت منظر سے غائب ہیں۔ ان میں سے ایک سابق صدر جنرل پرویز مشرف علالت کے باعث متحدہ عرب امارات میں ہیں جب کہ دوسری شخصیت، اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات میں جیل میں ہیں۔

تجزیہ کار ڈاکٹر ظفر جسپال کہتے ہیں کہ کارگل میں دونوں ممالک کے لیے سیکھنے کا عمل تھا اور پاکستان نے اس سے جو کچھ سیکھا وہ عملی طور پر پلوامہ حملہ کے بعد کی صورت حال میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے کارگل کے دوران ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت کو مل کر ایسے معالات سے نمٹنا پڑتا ہے۔ حالیہ عرصہ میں پلوامہ حملہ کے بعد پاکستان نے اس معاملہ کو بہت احسن طرح سے نمٹایا۔

کارگل جنگ کو دو دہائیاں گزر گئیں لیکن پاکستان اور بھارت کے تنازعات ابھی بھی موجود ہیں۔ دونوں ممالک بات چیت کریں گے یا حالات آئندہ دو دہائیوں تک بھی ایسے ہیں رہیں گے۔

اسلام آباد ریجنل پیس انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ رؤف حسن کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کو پرانی باتیں بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا۔ جب جب کارگل جیسے واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے تو کسی ایک کی شکست یا فتح کی باتیں آتی ہیں، جس سے دونوں فریقین کے درمیان منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ میرے نزدیک دونوں ممالک کو تمام معاملات بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنے چاہیئں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ نیا آغاز کیا جائے۔

کارگل کی جنگ اور پھر پلوامہ حملہ کے بعد پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے سامنے آ گئے اور سرحدوں پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے، لیکن عالمی دباؤ پر صورت حال میں بہتری آئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ثالثی سے متعلق اعلان کے بعد اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو اس مسئلے کے کسی مثبت حل کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG