رسائی کے لنکس

logo-print

کارگل جنگ: امریکہ۔بھارت اسٹریٹجک تعلقات کا نقطہ آغاز


فائل فوٹو

پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل جنگ کو 20 برس گزر گئے ہیں۔ لیکن، اس کی بازگشت اب تک سنائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس جنگ سے دونوں ملکوں کے کشمیر سے متعلق بیانیے پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ کیا پاکستان کے ’آپریشن بدر‘ کو کامیابی ملی یا بھارت کے ’آپریشن وجے‘ کو؟

3 مئی سے 26 جولائی تک جاری رہنے والی اس جنگ میں پاکستان کا مقصد یہ تھا کہ کارگل کی پہاڑیوں پر قبضہ کر کے بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مجبور کیا جائے۔ پاکستانی فوج نے ابتدا میں خاصی حد تک کامیابی حاصل کر لی اور جب بھارت کو اصل صورت حال کا اندازہ ہوا تو بھارت نے پہاڑیوں کے نیچے سے ’بوفرز‘ توپوں کے ذریعے حملہ کیا، جبکہ بھارتی فضائیہ نے بھی اوپر سے بمباری شروع کر دی۔

اس مرحلے پر، امریکہ نے پاکستان کو فوجیں واپس بلانے کیلئے کہا، جبکہ پاکستان نے امریکہ سے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ثالثی کرے۔

امریکہ کے تھنک ٹینک ’رینڈ کارپوریشن‘ نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ جب صدر بل کلنٹن نے اس سلسلے میں بھارت سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے انکار کر دیا۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کارگل سے پاکستان کے بیانیے کو نقصان پہنچا کیونکہ مغربی دنیا میں اسے پاکستان کی جانب سے مس ایڈوینچر یعنی ایک بدقسمت غلطی قرار دیا گیا۔ ’رینڈ کارپوریشن‘ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ 1999 کے موسم بہار میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی گئی محدود سطح کی اس جنگ سے ثابت ہوا کہ دونوں ملکوں کی جوہری طاقتیں ہونے کے باوجود روایتی انداز کی جنگ کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے پاکستان کیلئے یہ بھی ثابت کر دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کارگل طرز کا آپریشن موجودہ بین الاقوامی ماحول میں کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ ’رینڈ کارپوریشن‘ کے مطابق، کارگل نے دنیا کو یہ بھی باور کرا دیا کہ بھارتی انٹیلی جنس کے نظام میں شدید نوعیت کی کمزوریاں موجود ہیں اور وہ اس کارروائی کا پہلے سے پتہ نہیں لگایا جا سکا۔

یہ جنگ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت کے باعث ختم ہوئی اور اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان قریبی تعلقات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں پاکستانی فوجی کمانڈرز کو یہ قدم اٹھانے سے پہلے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس بارے میں امریکہ کا رد عمل کیا ہو گا۔

امریکہ نے پہلی بار پاکستان کی بجائے کھل کر بھارت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور پھر صدر بل کلنٹن نے اس کے ایک سال بعد 2000 میں امریکہ کا دورہ کیا جو 20 برس کے دوران کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ بھارت تھا۔ یہ دورہ کئی روز تک جاری رہا۔ اسی دورے کے دوران صدر کلنٹن محض چند گھنٹوں کیلئے اسلام آباد رکے جہاں انہوں نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف سے ملاقات کی۔

ان دونوں ملکوں کے دورے کی مختلف حیثیت سے یہ بخوبی ظاہر ہو گیا کہ امریکہ پاکستان کے بجائے بھارت سے مضبوط قریبی تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ کلنٹن کے بعد آنے والے صدور نے بھی بھارت کے متعدد دورے کیے اور امریکہ اور بھارت کے درمیان سیکورٹی اور سٹریٹجک تعلقات نئی جہت اختیار کر گئے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر بروس ریڈل کہتے ہیں کہ مئی 1998 میں بھارت اور پاکستان کے ایٹمی تجربات کے بعد ہونے والی کارگل جنگ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG