رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کی دھاندلی میں ملوث ہونے کی تردید


افغان صدارتی ترجمان کے بقول صدر کرزئی نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کے دوران کسی بھی امیدوار کی حمایت یا مخالفت سے گریز کیا ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مبینہ دھاندلی میں اپنے اور اپنے نائب صدر کے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

صدارتی انتخاب کے اہم امیدوار، افغانستان کے سابق وزیرِ خارجہ اور صدر کرزئی کے پرانے حریف عبداللہ عبداللہ کے ساتھیوں نے گزشتہ روز ایک آڈیو ٹیپ جاری کی تھی جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ نائب صدر محمد کریم خلیلی کی ہے۔

مبینہ آڈیو ٹیپ میں نائب صدر خلیلی، عبداللہ عبداللہ کے حریف اشرف غنی کا فائدہ پہنچانے کے لیے بعض افراد کو انتخابات میں دھاندلی کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

افغان صدارتی محل کے ترجمان ایمل فیضی نے آڈیو ٹیپ کو جعلی قرار دیتے ہوئے اسے تیار کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کااعلان کیا ہے۔

پیر کو خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے افغان صدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آڈیو ٹیپ کا معاملہ سنگین دھوکے بازی اور شخصی آزادی اور سلامتی کی خلاف ورزی ہے جس کے ذمہ داران کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔

ترجمان کے بقول صدر کرزئی اور ان کے نائب صدر افغانستان میں پرامن انتقالِ اقتدار کے خواہاں ہیں اور انہوں نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کے دوران کسی بھی امیدوار کی حمایت یا مخالفت سے گریز کیا ہے۔

عبداللہ عبداللہ کے ساتھی صدر کرزئی پر اس سے پہلے بھی انتخابات میں دھاندلی کرنے اور ماہرِ معیشت اشرف غنی کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے میں عبداللہ اور غنی کے درمیان دو بدو مقابلہ تھا جس میں، افغان الیکشن کمیشن کے مطابق، اشرف غنی نے 10 لاکھوں ووٹوں کی بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی تھی۔

لیکن عبداللہ عبداللہ نے انتخابات میں دھاندلی کے الزام عائد کرتے ہوئے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا۔

سیاسی عمل میں آنے والے تعطل کو دور کرنے کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کئی روز کے رابطوں کے بعد گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی جانچ پڑتال کا اعلان کیا تھا جو ان دنوں کابل میں جاری ہے۔

دونوں صدارتی امیدواروں کے نمائندے جو اب تک دوسرے انتخابی مرحلے کے نتائج کی جانچ پڑتال کے کام میں تعاون سے گریزاں تھے، پیر سے بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں نتائج کی دوبارہ گنتی کے عمل میں شامل ہوگئے ہیں۔

ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشرف غنی کو ووٹوں میں سبقت حاصل ہے لیکن گنتی سے منسلک ایک غیر ملکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اشرف غنی کو ملنے والے کئی ووٹ جانچ پڑتال کے دوران مسترد کیے جاسکتے ہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے پیر کو اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ تقریباً 23000 بیلٹ بکس جائزے کے لیے کابل پہنچائے جاچکے ہیں، جِن میں 95 فی صد ووٹ ہیں۔ بیان کے مطابق باقی ماندہ ماندہ بیلٹ بکس آئندہ چند دِنوں میں کابل پہنچ جائیں گے۔

سترہ جولائی سے اب تک افغانستان کے ٕخودمختار انتخابی کمیشن نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے زیرِ نگرانی ووٹوں کے 2000سے زائد بیلٹ بکسوں کا جائزہ مکمل کرلیا ہے۔

XS
SM
MD
LG