رسائی کے لنکس

logo-print

تعلقات میں بہتری لانے کے لیے، افغان صدرکی امریکی دورے پرآمد


افغان صدر حامد کرزئی امریکہ کے چار روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ چکے ہیں جِس کا مقصد باہمی تعلقات میں بہتری لانا ہے ، جس سے پہلے امریکی عہدے داروں کے ساتھ اُن کا کئی باراختلافِ رائے سامنے آچکا ہے۔

مسٹر کرزئی کے ہمراہ کابینہ کے تقریباً درجن بھر ارکان آئے ہیں۔ وہ منگل کو بات چیت سے قبل، پیر کی شام امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کریں گے۔ افغان رہنما بدھ کے روز صدر براک اوباما سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

وائیٹ ہاؤس پریس سیکریٹری رابرٹ گِبز کا کہنا ہے کہ بات چیت افغان سکیورٹی، بہتر طرزِ حکمرانی پر مرکوز رہے گی، بشمول مسٹر کرزئی کی طرف سے بد عنوانی کے انسداد، اور اُن طالبان باغیوں سے رابطہ کرنے کی کوششوں کے جو امن کے خواہاں ہیں ۔

مسٹر کرزئی سے امریکی عہدے داروں کی برہمی کے بعد یہ اُن کا امریکہ کا پہلا دورہ ہے جس کا باعث وہ بیان تھا جس میں اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گذشتہ برس ہونے والے افغان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی پشت پناہی غیر ملکی حکومتوں اور اقوامِ متحدہ نے کی تھی۔

دونوں ممالک کے تعلقات کے بارے میں سوال پر افغانستان میں امریکی سفیر کارل اِکین بیری نےنامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی اور افغان حکومتوں کے درمیان پہلے کبھی اتنی قربت نہ تھی۔

پیر کے روز وائیٹ ہاؤس کی بریفنگ کے دوران اِکین بیری اور گبِز نے براہِ راست اِس سوال کا جواب نہیں دیا آیا مسٹر کرزئی کی قیادت کے بارے میں امریکہ کی تشویش دور ہوگئی ہے۔

اِکین بیری نے کہا کہ مسٹر کرزئی افغانستان کے منتخب صدر ہیں اور اِس لحاظ سے وہ افغان لیڈر کی عزت کرتے ہیں۔ گِبز نے کہا کہ کسی ملک کے ساتھ باہمی تعلقات میں ایسے لمحات آتے ہیں جب طرفین متفق ہوں یا اُن میں اختلافِ رائے ہو۔

پیر کے روز وائیٹ ہاؤس بریفنگ میں افغانستان میں امریکی کمانڈر، جنرل سٹینلی میک کرسٹل نے بتایا کہ افغان فورس کو تیار کرنے پرکوششیں مرکوز ہیں، تاکہ وہی آخرِ کار سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ اُنھوں نے کہا کہ جوں جوں ملک کے جنوب میں امریکی افواج طالبان کے کنٹرول والے علاقوں کے اندر پہنچ جائیں گی، شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ آسکتا ہے، لیکن بالآخر صدر اوباما کی حکمت ِ عملی کامیاب رہے گی۔

XS
SM
MD
LG