رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات تک امریکہ سے معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا: کرزئی


افغانستان کے صدر نے یہ بھی کہا کہ معاہدے پر اُن کے دستخط سے پہلے امریکہ کو افغان عوام کے گھروں پر حملے بند اور تعطل کے شکار مذاکراتی عمل کی بحالی میں مدد کرنی ہو گی۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سلامتی سے متعلق معاہدے پر دستخط کے لیے وہ اپریل تک انتظار کریں گے جب ملک میں صدارتی انتخاب ہونا ہے۔

امریکی اعانت سے چلنے والے ریڈیو فری یورپ-ریڈیو لبرٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر کرزئی نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ اُن کے ملک کے بہترین مفاد میں ہے، لیکن اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے پر اُن کے دستخط سے پہلے امریکہ کو افغان عوام کے گھروں پر حملے بند اور تعطل کے شکار مذاکراتی عمل کی بحالی میں مدد کرنی ہو گی۔

اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کو اپریل میں افغان صدارتی انتخاب میں کسی صورت مداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔

افغانستان میں سیاسی و قبائلی عمائدین کے اجلاس یا لویا جرگہ نے مسٹر کرزئی کو معاہدے پر فی الفور دستخط کرنے کی گزارش کی تھی۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت 2014ء کے بعد بھی امریکی فوجی طالبان کے خلاف جنگ میں حکومت کی مدد کے لیے افغانستان میں رہ سکیں گے۔

افغان ٹیلی ویژن اسٹیشن طلوع سے الگ انٹرویو میں امریکہ کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس نے کہا کہ صدر حامد کرزئی سے پیر کو ہوئی اُن کی ملاقات مایوس کن رہی۔

سوزن رائس نے توقع کا اظہار کیا کہ افغان رہنما لویا جرگہ کے توثیق کردہ معاہدے پر جلد دستخط کر دیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ مسٹر کرزئی کو رواں برس کے اختتام سے قبل معاہدے پر دستخط کر دینے چاہیئں، بصورتِ دیگر امریکہ کے پاس 2014ء کے بعد تمام فوجیوں کے انخلاء کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

سلامتی سے متعلق معاہدہ یکم جنوری 2015ء سے نافذ العمل ہوگا، جب کہ 2014ء کے اختتام تک تمام بین الاقوامی لڑاکا افواج کے افغانستان سے انخلاء کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

افغان دارالحکومت کابل میں پیر کو ملاقات میں صدر کرزئی نے سوزن رائس کو بتایا کہ آئندہ صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے والے شخص کو اس معاہدے پر دستخط کرنے چاہیئں۔

امریکی حکام نے اس تاخیر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک معاہدے کی عدم موجودگی میں وہ فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق طویل المدت منصوبے نہیں بنا پائیں گے۔

ریڈیو فری یورپ اور ریڈیو لبرٹی کو امریکی حکومت براڈکاسٹنگ بورڈ آف گورنرز کے ذریعے اعانت فراہم کرتی ہے۔ براڈکاسٹنگ بورڈ آف گورنرز وائس آف امریکہ کا بھی نگران ہے۔
XS
SM
MD
LG