رسائی کے لنکس

logo-print

سلامتی کے معاہدے پر دستخط، رائس اور کرزئی میں نااتفاقی


پیر کے دِن کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران، مسٹر کرزئی نے رائس کو بتایا کہ وہ سمجھوتے پر دستخط کرنے سے متعلق اپنے انکار سے نہیں ہٹیں گے، اور یہ معاملہ اپنے جانشین پر چھوڑ دیا ہے

امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر، سوزن رائس نے افغان صدر حامد کرزئی کو بتا دیا ہے کہ اگر وہ سلامتی کے سمجھوتے پر جلد از جلد دستخط نہیں کرتے، تو سال 2014ء کے بعد کوئی بھی امریکی فوجی اُن کے ملک میں تعینات نہیں رہے گا۔

پیر کے دِن کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران، مسٹر کرزئی نے رائس کو بتایا کہ وہ سمجھوتے پر دستخط کرنے سے متعلق اپنے انکار سے نہیں ہٹیں گے، اور یہ معاملہ اپنے جانشین پر چھوڑ دیا ہے۔

اس کے برعکس، مسٹر کرزئی نے نئے مطالبات پیش کیے، جِن میں یہ یقین دہانی کرانا بھی شامل ہے کہ امریکی فوجیں افغان گھروں پر چھاپے نہیں ماریں گی اور طالبان کے ساتھ تعطل کی شکار بات چیت دوبارہ شروع کرنے میں مدد دینے کے لیے امریکہ اپنے گہرے عزم کا اظہار کرے۔

اُنھوں نے اس مطالبے کا بھی اعادہ کیا کہ امریکہ پانچ اپریل کو افغانستان میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کے عزم کا اظہار کرے۔

یہ ملاقات اُس وقت ہوئی جب رائس امریکی فوجیوں سے ملاقات کے لیے وہاں موجود تھیں، جو قومی سلامتی پر صدر براک اوباما کی اعلیٰ مشیر بننے کے بعد اُن کا افغانستان کا پہلا دورہ تھا۔

اتوار کے روز، مسٹر کرزئی نے ملک کی اعلیٰ اسمبلی، یعنی لویہ جرگہ، کی سفارش کو نظرانداز کردیا تھا، جِس نے امریکہ کے ساتھ ایک نئے باہمی سلامتی کے سمجھوتے پر فوری دستخط کے لیے کہا تھا۔

افغان صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ قیامِ امن کے بارے میں امریکی سنجیدگی کا جائزہ لینے کے لیے افغانستان کو مزید وقت درکار ہے اور جلد بازی میں معاہدے کی منظوری دینے کے حق میں نہیں۔

سینکڑوں افغان سرداروں اور قبائلی عمائدین پر مشتمل 'لویہ جرگہ' نے اتوار کو مجوزہ معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے افغان صدر سے اس پر فوری دستخط کرنے کی سفارش کی تھی۔

لیکن صدر کرزئی کا موقف رہا ہے کہ مجوزہ معاہدے پر دستخط کے لیے آئندہ برس اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک انتظار کیا جائے اور اس معاہدے کی منظوری اور عمل درآمد کا فیصلہ آنے والے صدر پر چھوڑ دیا جائے۔

امریکی حکام صدر کرزئی کے موقف کی سخت مخالفت کرتے آئے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ مجوزہ معاہدے کو رواں سال کے اختتام تک طے کیا جانا چاہیے، تاکہ انہیں افغانستان میں فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں تفصیلی منصوبہ بندی کا وقت مل سکے۔

مجوزہ معاہدے کے تحت 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد چند ہزار امریکی فوجی وہاں موجود رہیں گے اور افغانستان میں جاری شورش کے خلاف افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کو معاونت فراہم کریں گے۔

مجوزہ معاہدے کا اطلاق یکم جنوری 2015ء سے ہوگا۔
XS
SM
MD
LG