رسائی کے لنکس

logo-print

کشمیرکاداخلی حل ضروری ہے: امریکی اسکالر


ڈاکٹر اینڈرسن نے کہا کہ بھارتی وفاق میں کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کا تعلیمی نظام پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں سابق وزرائے اعلیٰ کی بہتر کارکردگی کی بنا پر معیاری اور مثالی ہے۔

اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سائس) کے ساؤتھ ایشیا اسٹڈیز کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر والٹر اینڈرسن نے کہا ہے کہ اُنھیں اِس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کشمیر کےمعاملے کا ‘کوئی داخلی کا حل’ ڈھونڈنے کی بات کی ہے، جس میں زیادہ خود مختاری کی بات بھی شامل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ ایک طویل عرصے سے کشمیر کو زیادہ خودمختاری دینے کی بات کرتے چلے آئیں ہیں۔

اُنھوں نے یہ بات ‘ وائس آف امریکہ’ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔ اُن سے بھارتی وزیرِ اعظم کی طرف سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کو خودمختاری دینے سے متعلق بیان پر رائے معلوم کی گئی تھی۔

لیکن اُنھوں نے کہا کہ کسی نوعیت کی خودمختاری کا معاملہ ‘پیچیدہ’ ضرور ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے جموں اور لداخ کی غیر مسلم اکثریت والے علاقوں کی طرف نشاندہی کی۔

اپنے بیان میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کشمیری نوجوانوں سے کہا ہے کہ خون خرابے کی راہ ترک کرکے تعلیم کی طرف دھیان دیں۔ اِس معاملے پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر اینڈرسن نے کہا کہ بھارتی وفاق میں کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کا تعلیمی نظام پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں سابق وزرائے اعلیٰ کی بہتر کارکردگی کی بنا پر معیاری اور مثالی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارت میں آئی ٹی کے میدان میں ملازمت کےبہت ہی سودمند مواقع میسر ہیں جِن میں پڑھے لکھے کشمیری نوجوانوں کوبہتر نوکریاں مل سکتی ہیں، جوبات کشمیرکی خوشحالی کا باعث بنے گی۔ اِسی طرح سے کمپیوٹر کی تعلیم اور صنعت میں سرمایہ کاری کے بیشمار مواقع موجو د ہیں جس میں روزگار کے مزید اور منافع بخش مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر اینڈرسن نے کہا کہ حکومت اِس بات کی کوشاں ہے کہ بے روزگاری اور روزگار کے کم مواقع کے معاملوں کا تدارک کیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ دیے جانے والے اقتصادی مراعات کے کسی پیکج سے کشمیر ی عوام کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

‘اگر ہنگامہ آرائی کا ماحول ہوگا، سخت گیری اور شدت پسندی کی صورتِ حال ہوگی تو کشمیر کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے ، جس کے لیے ضروری ہے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے، اور امن کو فروغ دیا جائے۔’

اُنھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل ڈھونڈنے پر زور دے رہے ہیں۔

دوسری طرف، خود مختاری سے متعلق بیان پر رائے معلوم کرنے پر کشمیری امریکن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام نبی فائی کا کہنا تھا کہ ساٹھ کی دہائی میں شیخ عبد اللہ کے وقت خودمختاری دی گئی تھی جو، اُن کے بقول، نہیں چل پائی۔

ڈاکٹر فائی کے بقول، کشمیری سیاسی جماعتیں حالات کو جوں کا توں رکھنے کے حق میں نہیں ہیں، وہ آزادی کی باتیں کررہی ہیں۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے مختلف سروے رپورٹوں کا حوالہ دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اِس وقت بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں جاری جدوجہد میں کشمیری نوجوان پیش پیش ہے، جس کے پاس، اُن کے بقول، کوئی اسلحہ نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG