رسائی کے لنکس

دھماکے سے گرد و نواح کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زخمیوں کو مقامی اسپتال لایا گیا اور ابتدائی طبی امداد کے بعد، مظفرآباد بھیج دیا گیا

حکام کے مطابق، اتوار کی شب راولپنڈی سے کنٹرول لائن کے چکوٹھی سیکٹر کے قریبی علاقے، کھلانہ جانے والی مسافر وین کے قریب ہونے والے دھماکے سے دو افراد زخمی ہوگئے۔

دھماکے سے گرد و نواح کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

زخمیوں کو مقامی اسپتال لایا گیا اور ابتدائی طبی امداد کے بعد، مظفرآباد بھیج دیا گیا۔

پیر کی صبح اُسی جگہ ایک اور دھماکا ہوا جس سے پانچ افراد زخمی ہوگئے، جن میں ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ جس جگہ دھماکا ہوا وہ کنٹرول لائن کی دوسری جانب واقع بھارتی چوکیوں کے بلکل سامنے بتائی جاتی ہے، جہاں گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں بھی ایک پرائیویٹ جیپ کے قریب بھی اسی قسم کا دھماکہ ہوا تھا۔ تاہم، اُس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

سرحدی ضلع جہلم ویلی کے ڈپٹی کشمنر، حمید کیانی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’دھماکے زیر زمین چھپائے گئے بارودی مواد کے ذریعے کیے گے، جن میں چھ لوگ زخمی ہوئے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی صورت حال حسبِ معمول ہے اور سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے، اور واقعے کی چھان بین کی جاری ہے۔

تاہم، ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ حکام کی طرف سے ان دھماکوں کو ’’ملک دشمن قوتوں کی طرف سے تخریبی کارروائی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

چکوٹھی سیکٹر سے ہفتہ وار سرینگر مظفرآباد بس اور ٹرک سروس لائن آف کنٹرول کے آرپار جاتی ہے؛ اور دھماکوں کے باوجود، پیر کے روز بھی سرینگر مظفرآباد بس اور ٹرک سروس معمول کے مطابق جاری رہی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG