رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں خودکش حملے پر پاکستان کی گہری تشویش اور مذمت


سری نگر کے قریب خودکش حملے کے مقام پر سیکورٹی اہل کار نگرانی کر رہے ہیں۔ اس حملے میں 49 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 14 فروری 2019

پاکستان نے بھارت کے زیر اہتمام کشمیر میں خود کش حملے کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی سخت مذمت کی ہے۔ پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور حکمران پارٹی نے بھی بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں انتخابات کے موقع پر وہاں کی ایجنسیاں خود حملہ کراتی ہیں اور اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔

بھارتی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں گزشتہ روز کے خودکش دھماکے میں چار درجن سے زیادہ بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد بھارتی حکومت اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملہ سخت تشویش کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ دنیا بھر میں سنگین پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نےکہا کہ ہم بھارتی حکومت اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں کی جانب سے کسی تحقیقات کے بغیر اس حملے کے عناصر کو ریاست پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

حکمران جماعت کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب بھی بھارت میں انتخابات آتے ہیں تو کوئی نہ کوئی الزام پاکستان پر عائد کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی ایجنسیاں خود اس طرح کے حملے کراتی ہیں اور الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔

حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک نے کہا بھارت کی جانب سے ہر الزام پاکستان پر لگانا بھارتی خفیہ ایجنسی را کا وطیرہ بن گیا ہے۔ سمجھوتہ ایکسریس حملے میں بھی بھارت ہی ملوث تھا اور پلوامہ حملے میں بھی کہیں اسی کا ہاتھ نہ ہو۔

رحمن ملک نے کہا کہ الیکشن میں کامیابی اور پاکستان میں گرفتار بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیوکے ٹرائل کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے نئی اسکیم بنائی ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کا ہے۔ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی بند کرے۔

بھارتی زیر انتطام کشمیر میں حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی دیکھی جا رہی ہے اور بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی معاونت کا الزام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان پیرس میں مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ تجزہہ کار اس تنازع کو دو ہمسایہ ملکوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر ہی سے جڑا ایک اور بڑا تنازع دریائی پانی کی تقسیم کا ہے۔ بھارت متنازع کشمیر میں کئی بڑے ڈیم بنا رہا ہے جسے پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اپنے حصے کا پانی روکنے کی سازش سمجھتا ہے۔

قدامت پسند ہندو جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈر نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔

ماضی میں کئی مواقعوں پر دونوں ہمسایہ ملکوں نے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، لیکن اس دوران ہمیشہ ایسا کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا رہا ہے جس سے کشیدگی دور کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG