رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل کیانی کا دورہ سوات


جنرل کیانی کا دورہ سوات

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدھ کو سوات کا دورہ کیا اور مقامی عمائدین کے ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ آخری جنگجو کے خاتمے تک علاقے میں فوج موجود رہے گی۔

جنرل کیانی نے کہا کہ فوج اور عوام کی قربانیوں کی بدولت سوات میں امن قائم ہوا ہے اور دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

فوج کے سربراہ نے سوات کا دورہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب وادی میں حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ مارے جانے والوں میں صوبے میں حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے دو کارکن اورمقامی امن کمیٹیوں کے تین رضاکار شامل ہیں۔

مالاکنڈ ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس قاضی محمد جمیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قتل کے ان پراسرار واقعات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔ اُنھوں نے اس تاثرکو رد کیا ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے سوات میں حکومت کی جانب سے کاروبار زندگی بحال کرنے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

دوسری طرف سوات کے تجارتی اور سیاحتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے بعد اب قتل کے پراسرار واقعات کی وجہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG