رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل کیانی کی پس پردہ رہ کر مقاصد کے حصول کی پالیسی


جنرل کیانی صدر اور وزیراعظم کے ہمراہ

وکی لیکس نے انٹرنیٹ پر جن سفارتی دستاویزات کو افشا کیا ہے اُن کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنے پیش رو پرویز مشرف سے سبق سیکھتے ہوئے پس پردہ رہ کر حکومت اور پارلیمان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں ، جن میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی کی سیاسی کوششوں کو روکنا شامل ہے۔

رواں سال 22 جنوری کو فرانسیسی حکومت کے افغانستان پاکستان انٹرا یجنسی سیل کی سربراہ جیسمن زیرینی نے اپنے پیرس بھیجے جانے والے پیغام میں کہا ہے کہ ”امریکی امداد کے کیر ی لوگر بل پر تنازع بھی جنرل کیانی نے کھڑا کیاکیونکہ اس کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد کو سیاسی حکومت کے فوج پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول سے مشروط کیا گیا ہے۔ “

فرانسیسی سفارت کار کا یہ بھی استدلال تھا کہ پاکستانی فوج پر دباؤ ڈال کر اُسے پاکستان میں روپوش افغان طالبان کا سرکچلنے کے لیے کارروائی کرنے کا موقع بھی مغرب نے ہاتھ سے گنوا دیا ہے ۔

انھوں نے جلال الدین حقانی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2004 ء میں اُسے جہادی برادری میں ایک لیڈر کا درجہ حاصل تھا لیکن اُس کے پاس کوئی تنظیم نہیں تھی جو نمایاں عسکری خطرہ بن سکتی۔ تاہم سفارت کار زیرینی کے بقول تب سے آج تک خصوصاََ خلیجی ملکوں سے بڑی بڑی رقوم کے عطیات سے حقانی نے ایک ایسا نیٹ ورک قائم کر لیا ہے جسے عزم ہونے کے باوجود شکست دینا پاکستانی فوج کے لیے بہت مشکل ہوگا۔

XS
SM
MD
LG