رسائی کے لنکس

کینیا کی حکومت نے کہا ہے کہ خشک سالی سے 27 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس خطے کے صحرائی اور نیم صحرائی ملکوں کے 20 فی صد مویشی پانی کی شدید قلت کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

شمالی کینیا کے دیہاتیوں نے وباؤں کے خوف سے اپنے مردہ جانوروں کو جلانا شروع کر دیاہے۔ اس علاقے میں گذشتہ پانچ سال کے عرصے کی بدترین خشک سالی کی وجہ سے ان کے مال مویشی بھوک اور پیاس سے ہلاک ہورہے ہیں۔

جانوروں کی ہلاکتوں کے یہ مناظر جھیل تورکانا کے علاقے میں دیکھے جا سکتے ہیں جہاں خشک سالی کے باعث جھیل سکڑ گئی ہے اور اس کی دلدلی زمین میں مردہ جانوروں کے پنجر جابجا بکھرے پڑے ہیں۔اور جھیل میں استعمال ہونے والی کشتیاں خشک سطح پر لاوارث کھڑی ہیں۔

کینیا کے خانہ بدوش قبائل اپنی بچتیں بینکوں میں رکھنے کی بجائے جانوروں کی خرید پر صرف کرتے ہیں اور ہر جانور کی ہلاکت ان کے لیے ایک بڑے مالی نقصان کے مترادف ہوتی ہے۔

کینیا کی حکومت نے کہا ہے کہ خشک سالی سے 27 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس خطے کے صحرائی اور نیم صحرائی ملکوں کے 20 فی صد مویشی پانی کی شدید قلت کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔کینیا کا تقربیاً 80 فی صد علاقہ صحرائی یا نیم صحرائی حصوں پر مشتمل ہے۔

کینیا کے خشک سالی سے متعلق قومی ادارے کے سربراہ جیمز اوڈور کہتے ہیں کہ سن 2011 کے بعد سے یہ بدترین خشک سالی ہے۔

کینیا کی حکومت مویشی پالنے والوں کی مدد کے لیے ایک خصوصی پروگرام چلا رہی ہے جس کے تحت وہ ان سے تقریباً 20 امریکی ڈالر میں ایک بکری یا ایک بھیڑ اور150 ڈالر میں ایک گائے خرید لیتی ہے۔ یہ قیمت ایک صحت مند جانور کی قیمت کا لگ بھگ نصف ہے۔

جیمز اوڈور کا کہنا ہے کہ اگر جانوروں کی حالت بہتر ہو تو انہیں گھاس چرنے کے لیے کہیں بھیجا جا سکتا ہے ، لیکن جب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہی نہ ہوں تو محض ذبحہ کرنے کے کام آتے ہیں، تاکہ کمیونٹی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

ایک دیہاتی لوکو کوائی نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ اس کے گاؤں کی تقربیاً دو ہزار بکریاں ہلاک ہو چکی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ یہ جانور ہی ہماری روزی روٹی ہیں۔

ملک کے جنوب میں واقع جھیل تورکانا جو اپنے ماحول کی خوبصورتی کے باعث ملک بھر میں شہرت رکھتی ہے، مردہ جانوروں کے ڈھانچوں سے بھری پڑی ہے۔ مقامی آبادی ان ڈھانچوں کو جلا رہی ہے تاکہ بارش ہونے کی صورت میں ان کے جراثیم پانی میں شامل ہو کر انسانی آبادی کو بیمار نہ کر دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG