رسائی کے لنکس

logo-print

نیروبی: الشباب کے حملے میں 14 ہلاک، آپریشن مکمل


کینیا کے صدر کا کہنا ہے کہ دارالحکومت نیروبی کے ہوٹل اور دفاتر کے کمپلکس پر دہشت گردوں کا محاصرہ ختم کر کے آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

بدھ کو سرکاری ٹیلی وژن سے خطاب میں صدر اہورو کینیاٹا نے کہا کہ اس مہلک حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے سات سو افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں ایک امریکی شہری بھی ہلاک ہوا لیکن اُس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے جب کہ ایک برطانوی شہری کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔

منگل کو ہونے والے اس دہشت گرد حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم الشباب نے قبول کی تھی۔

دہشت گردوں نے منگل کو دوپہر میں بینک کے باہر حملہ کیا جس کے بعد ہوٹل کی لابی میں بھی خودکش حملہ ہوا۔

سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں چار مسلح افراد کو اندر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں مسلح افراد کے آنے کے بعد دفتر اور ہوٹل کے ملازم اور مہمان بھاگ رہے ہیں۔

پولیس جب ہوٹل میں داخل ہوئی تو بہت دل سوز مناظر دیکھنے کو ملے جہاں ریستوران میں ہر جانب ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں بکھری ہوئیں تھیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ اُن کے بعض ساتھی اُس وقت کمپلکس میں داخل ہوئے جب وہاں حملہ ہوا تھا۔

نیروبی کے ویسٹ لینڈرز نامی علاقے میں جہاں یہ کمپلکس واقع ہے وہاں پرتعیش ہوٹل اور دکانیں و ہیں۔ یہ علاقے امریکی، یورپی اور بھارتی سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔

اس سے پہلے بھی شدت پسند تنظیم الشباب نے کینیا میں کئی مرتبہ مہلک حملے کیے ہیں اور ستمبر 2013ء میں نیروبی کے ویسٹ گیٹ مال میں ہونے والے ایک حملے میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG