رسائی کے لنکس

کینیا: دہشت گردی روکنے کے لیے عوام کو مسلح کیا جائے


ایک پولیس اہل کار نیبروبی میں پارلیمںٹ کی عمارت کے سامنے پہرہ دے رہا ہے۔ فائل فوٹو

عہدے دار قومی حکومت پر یہ إلزام لگاتے ہیں کہ وہ انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ضروری سروسز کی انجام دہی نہیں کر پا رہے کیوں کہ حملوں کے خوف سے ٹیچرز اور صحت کے کارکنوں نے کام پر آنا چھوڑ دیا ہے۔

کینیا کے شمال مشرق میں سیکیورٹی فورسز پر مسلسل حملوں نے مقامی عہدے داروں کو چوکس کر دیا ہے جن میں سے کچھ حکومت سےعوام شہریوں کو مسلح کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بہت زیادہ خطرے کی بات ہو گی لیکن وہ بہتر تحفظ کا وعدہ کر رہی ہے۔

حملوں کے کئی ہفتوں بعد کینیا کے شمال مشرقی علاقے کے مقامی عہدے دار کہہ رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی روکنے کے لیے عام شہریوں کو مسلح کر دیں گے۔

عہدے دار قومی حکومت پر یہ إلزام لگاتے ہیں کہ وہ انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ ۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ضروری سروسز کی انجام دہی نہیں کر پا رہے کیوں کہ ٹیچرز اور صحت کے کارکنوں نے کام پر آنا چھوڑ دیا ہے۔

گیریسا کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ باری شل کہتے ہیں کہ مقامی لوگ دہشت گردی کے حملوں سے تنگ آ چکے ہیں اور نہیں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آپ ہمیشہ مسلح دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلا ک اور زخمی نہیں ہو سکتے ۔ لیکن ہمیں ابھی تک تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ ہم اساتذہ اور طبی عملے سے محروم ہو چکے ہیں ۔اب ہم وہ بنیادی سہولیات نہیں حاصل کر رہے ۔ ہم گذشتہ تقریباً چار برسوں سے مشکلات کا شکار ہیں۔

باری شل اور شمال مشرقی علاقے کے چار دوسرے قانون سازوں نے حکومت سے کمیونٹی کو مسلح کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ الشباب کے عسکریت پسندوں سے اپنا دفا ع کر سکیں۔ اس گروپ نے حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔

کینیا کے پولیس ترجمان چارلس اوینو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس درخواست پر عمل در آمد نہیں ہو سکتا، لیکن حکومت آبادی کی حفاظت کے لیے مزید بھرتیاں کرے گی اور سیکیورٹی فورسز کا مزید عملہ فراہم کرے گی ۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایک ماہر رچرڈ ٹیوٹا کہتے ہیں کہ آبادی کو مسلح کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے صحیح ضابطوٕں پر عمل کرنا ضروری ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کو مسلح کرنا کوئی برا خیال نہیں ہے لیکن اسے کس طرح مسلح کیا جائے اگر قانون کے مطابق یہ سب کارروائی ہوتی ہے تو یہ درست ہو گا۔

گذشتہ تین ہفتوں میں الشباب گروپ سیکیورٹی کے 17افسروں کو ہلاک کر چکا ہے ۔ ان میں سے کچھ اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی موٹر گاڑیاں سڑک کے ساتھ نصب کیے جانے والے بارودی مواد سے ٹکرائیں۔ ان حملوں میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے جن میں ایک ٹیچر شامل تھا جسے گیریسا کاؤنٹی کے علاقے فافی میں ہلاک کیا گیا تھا۔

ایک سیکیورٹی افسر کی تدفین میں شرکت کرتے ہوئے کینیا کے وزیر داخلہ ,جوزف کیسری نے کہا کہ حکومت ان دہشت گردوں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لائے گی جن کا ان ہلاکتوں میں ہاتھ ہے۔

انہوں نے دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری شرمناک کارروائیوں نے زندگیوں کے چراغ گل کیے ہیں۔ ہماری طرف سے تمہارے لیے یہ پیغام ہے کہ تم بھاگ سکتے ہیں لیکن چھپ نہیں سکتے ۔ ہم کسی نہ کسی طرح تم لوگوں تک پہنچ جائیں گے اور پھر تمہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔

یہ حملے ایسے میں ہوئے ہیں جب کینیا کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد میں دو ماہ سے بھی کم عرصہ باقی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG