رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: سيلاب کے بعد کیرالا میں سانپ گھروں پر قابض ہو گئے


کیرالا میں سیلاب کا ایک منظر، لوگ محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ اب سیلابی پانی اترنا شروع ہو گیا ہے۔ 18 اگست 2018

ایک مقامی سپیرے سریش نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ اسے اب تک سانپ پکڑ نے کے لیے 22 لوگوں کی خوف میں ڈوبی ہوئی فون کالیں موصول ہو چکی ہیں، اور اس نے جو سانپ پکڑے ہیں ان میں 5 کوبرا بھی شامل ہیں۔

بھارت کی ریاست کیرالا سيلاب کا پانی اتر رہا ہے اور محفوظ مقامات پر پناہ لینے والوں کی اپنے گھروں کو واپسی شروع ہو گئی ہے، مگر سیلاب متاثرین کو اب سانپوں کے سيلاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو پانی کے ریلوں سے بھی زیادہ مشکل صورت حال ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ سیلابی ریلوں کے ساتھ بہتے ہوئے بڑی تعداد میں سانپ بھی آبادیوں میں داخل ہوئے اور خالی مکانوں پر قابض ہو گئے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گھروں میں سانپوں کی یلغار کا یہ عالم ہے کہ الماری کھو لیں تو اندر سے سانپ نکلتا ہے۔ قالبن کا کونا اٹھائیں تو نیچے سے سانپ پھنکارتا ہے۔ صندوق سے کپڑے نکالیں تو نیچے سانپ رینگتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حتی کہ واشنگ مشین کا ڈھکن اٹھائیں تو اس میں سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہوتا ہے۔ غرض گھر کا کوئی کونا اور کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں سانپوں کی موجودگی کا خدشہ نہ ہو۔

گھروں میں داخل ہونے والوں سانپوں میں کوبرا یا ناگ بھی ایک بڑی تعداد میں ہیں جن کا شمار دنیا کے زہریلے ترین سانپوں میں کیا جاتا ہے۔

ایک مقامی سپیرے سریش نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ اسے اب تک سانپ پکڑ نے کے لیے 22 لوگوں کی خوف میں ڈوبی ہوئی فون کالیں موصول ہو چکی ہیں، اور اس نے جو سانپ پکڑے ہیں ان میں 5 کوبرا بھی شامل ہیں۔

سریش نے بتایا کہ اس نے ایک گھر سے تین سانپ پکڑے۔ ایک الماری میں چھپا ہوا تھا۔ دوسرا ایک چادر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا اور تیسرے سانپ نے باورچی خانے کی ایک شیلف میں اپنا ٹھکانہ بنایا ہو ا تھا۔

سرکاری خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ کیرالا کی حکومت نے سانپوں کے ایک ماہر کے مشورے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے پاس ایک چھڑی رکھیں۔ کسی بھی چیز کو اٹھانے سے پہلے اسے چھڑی سے ہلا جلا کر دیکھ لیں کہ کہیں اس میں سانپ تو نہیں چھپا ہوا۔

کیرالا کی حکومت نے لوگوں کو ہدایت کی ہے وہ سانپوں سے ہوشیار رہیں۔ جیسے ہی کوئی سانپ نظر آئے تو متعلقہ محکمے کو فوری اطلاع دیں۔ اور سانپ ڈسنے کی صورت میں متاثرہ شخص کو فوراً اسپتال پہنچایا جائے۔

اسپتالوں میں سانپ کے زہر کو بے اثر کرنے والی دواؤں کی ایک بڑی مقدار پہنچا دی گئی ہے۔

سیلابی ریلوں سے کیرالا میں تقریباً 10 ہزار کلومیٹر سڑکیں یا تو بہہ گئیں یا انہیں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جب کہ 50 ہزار سے زیادہ مکان یا تو ڈھ گئے یا انہیں جزوی طور پر نقصان پہنچا اور لاکھوں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جانا پڑا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سیلاب سے ہلاک یا لاپتا ہونے والوں کی تعداد سوا چار سو کے لگ بھگ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG