رسائی کے لنکس

logo-print

سونی سائبر حملہ، جان کیری کی جانب سے شمالی کوریا کی مذمت


جان کیری نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو شمالی کوریا کی حکومت کے تعاون سے 'سونی پکچرز' کے کمپیوٹر نظام پر کیے جانے والے تبا ہ کن سائبر حملے پر سخت تشویش ہے

امریکہ نے ہالی ووڈ کے فلم اسٹوڈیو 'سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ' کو سائبر حملے کا نشانہ بنانے پر شمالی کوریا کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کے اقدامات کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جمعے کوجاری کیے جانے والے ایک بیان میں سیکریٹری جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ 'سونی پکچرز' کی فلم 'دی انٹرویو' کی نمائش کرنے والے سنیما گھروں اور فلم بینوں کو دی جانے والی "سنگین نتائج کی دھمکیوں" کی بھی مذمت کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے ان دھمکیوں کو "ایک ایسے ملک کی جانب سے آزادیٔ اظہار پر حملہ اور فن کاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو دبانے کی کوشش" قرار دیا ہے، جو ان کے بقول، خود ساری دنیا سے کٹا ہوا اور الگ تھلگ ہے۔

اپنے بیان میں جان کیری نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو شمالی کوریا کی حکومت کے تعاون سے 'سونی پکچرز' کے کمپیوٹر نظام پر کیے جانے والے تبا ہ کن سائبر حملے پر سخت تشویش ہے، جو ان کے بقول، شمالی کوریا کی جانب سے بین الاقوامی اصولوں اور ضابطوں کو خاطر میں نہ لانے کی تازہ مثال ہے۔

امریکی وزیر نے کہا کہ شمالی کوریا کے حملے کا مقصد آزادی اظہار کو دبانا اور امریکہ کو قابلِ ذکر معاشی نقصان پہنچانا تھا۔

اپنے بیان میں جان کیری نے اعلان کیا کہ امریکہ سائبر حملوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ گردانتا ہے اور شمالی کوریا کی جانب سے ایک امریکی کمپنی پر "اشتعال انگیز" سائبر حملے کے بعد اپنا رویہ اور ترجیحات تبدیل نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کے افسران نے رواں ہفتے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں قرار دیا تھا کہ گزشتہ ماہ 'سونی اسٹوڈیوز' کے کمپیوٹر سسٹم پر ہونے والے سائبر حملے میں شمالی کوریا کی حکومت بالواسطہ طور پر ملوث تھی۔

گزشتہ ماہ کیے جانے والے اس سائبر حملے نے جاپانی کمپنی 'سونی' کے زیرِ انتظام چلنے والے ہالی وڈ فلم اسٹوڈیو کے کمپیوٹر نظام کو بری طرح متاثر کیا تھا۔

سائبر حملے کے نتیجے میں 'سونی' کے 47 ہزار ملازمین اور اہم شخصیات کی نجی تفصیلات انٹرنیٹ پر جاری ہوگئی تھیں۔

ہیکرز نے فلم اسٹوڈیو کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے اپنی مزاحیہ فلم 'د ی انٹرویو' کی نمائش منسوخ نہ کی تو نہ صرف اس پر مزید حملے کیے جائیں گے بلکہ فلم دکھانے والے سنیما گھروں اور فلم بینوں کو بھی 'گیارہ ستمبر 2001ء' کی طرز کے حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

دھمکیاں ملنے کے بعد کئی سنیما گھروں کی جانب سے فلم کی نمائش سے معذرت کے پیشِ نظر 'سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ' نے بھی فلم کی نمائش ملتوی کردی ہے۔

XS
SM
MD
LG