رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقِ وسطیٰ کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیں گے، امریکہ


جان کیری نے کہا کہ عرب اتحادیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں "خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کے مقابلے کے لیے باہمی تعاون میں اضافے کے اقدامات" پر بھی بات ہوئی ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے خلیجی اتحادیوں کے ہمراہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرے گا۔

پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں چھ رکنی 'خلیج تعاون کونسل' کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کےبعد صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ ملاقات کے تمام شرکا اس بارے میں متفق تھے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والےجوہری معاہدے پر مکمل عمل درآمد سے خطے کی سلامتی کو صورتِ حال بہتر ہوگی۔

جان کیری نے کہا کہ عرب اتحادیوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں "خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کے مقابلے کے لیے باہمی تعاون میں اضافے کے اقدامات" پر بھی بات ہوئی ہے۔

امریکہ کی اتحادی عرب ریاستوں کو خدشہ ہے کہ گزشتہ ماہ ویانا میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے نتیجے میں ایران کی خطے میں بالادستی کے حصول کی کوششوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن متاثر ہوگا۔

خلیجی ریاستوں – خصوصاً خطے میں ایران کے روایتی حریف سعودی عرب – کے اعلیٰ حکام ان خدشات کاا ظہار کرتے آئے ہیں کہ 14 جولائی کو طے پانے والے معاہدے کے نتیجےمیں تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں بہتری آئے گی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران خطے میں سرگرم اپنی اتحادی شیعہ ملیشیاؤں کی اعانت میں اضافہ کرسکتا ہے۔

پیر کو خلیجی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کےبعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے عرب ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ تعاون کو مزید دیرپا، مضبوط اور مستحکم کرنے کے اقدامات پر گفتگو کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب اور ہتھیاروں کی منتقلی کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جان کیری نے اعلان کیا کہ ان کا ملک اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے میں اضافہ اور خصوصی فوجی دستوں کے تربیتی مشن میں بھی توسیع کرے گا۔

ملاقات کے میزبان اور قطر کے وزیرِ خارجہ خالد العطیہ نے صحافیوں کو بتایا کہ خلیجی ملکوں کو اعتماد ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے "تاریخی معاہدے" کےنتیجے میں خطہ مزید محفوظ اور مستحکم ہوگا۔

خیال رہے کہ اس وقت چھ ملکی 'خلیج تعاون کونسل' کی صدارت قطر کے پاس ہے۔ تنظیم کے دیگر رکن ملکوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، اومان اور بحرین شا مل ہیں۔

XS
SM
MD
LG