رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے ساتھ بہتر شراکت داری اور فروغ ِتعلقات کا ایکٹ، 2009


S.1707
پاکستان کے ساتھ بہتر شراکت داری اور فروغ ِتعلقات کا ایکٹ، 2009
(سینیٹ سے 24 اکتوبر اور ایوان سے 30 اکتوبر 2009 کو منظور ہوا)

حقائق

1۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور امریکہ کے عوام کے مابین دوستی اور تعاون کی طویل تاریخ ہے اور دونوں ممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ اس دوستی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

2۔ 2001 سے اب تک امریکہ نے پاکستان کو پندرہ کروڑ ڈالر کی امداد دی ہے جس میں دس کروڑ فوجی امداد کے طور پر دیے گئے۔

3۔ 18 فروری 2008 میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں شہری حکومت لوٹ آئی جس کے بعد برسوں سے جاری سیاسی تناؤ اور فوج، جمہوری اصلاحات اور سیاسی عمل کے بارے میں عوامی تشویش کا خاتمہ ہوا۔

4۔ نیٹو سے باہر پاکستان، امریکہ کے اہم ترین اتحادیوں میں سے ایک ہے اور القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ میں اس نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ لیکن امریکہ اور پاکستان دونوں کو ابھی اس سلسلے میں بہت کچھ کرنا ہے۔

5۔ القاعدہ اور طالبان کے خلاف جدوجہد میں پچھلے سات برسوں میں پاکستان کے ہزاروں فوجی اور شہری ہلاک ہوئے ہیں

6۔ القاعدہ کے خالد شیخ محمد جیسے لیڈروں سمیت سیکنڑوں کارکنوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے کے باوجود فاٹا، صوبہ سرحد کے کچھ حصے، کوئٹہ اور مرید کے اب بھی القاعدہ، افغان طالبان، تحریک طالبان اور ان سے منسلک دوسرے گروپوں کے لئے جائے پناہ ہیں۔ اور ان جگہوں سے یہ گروپ پاکستان اور دوسرے ممالک پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

7۔ پاکستان کی افواج نے طالبان کی پشت پناہی میں ہونے والی بغاوت کو قابو میں رکھنے کے لئے بہت جد و جہد کی ہے اور حال ہی میں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف براہ راست کارروائی بھی کی ہے جس میں فاٹا اور صوبہ سرحد میں کی جانے والی فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔

8۔ 27 مارچ 2009 کو صدر اوباما نے کہا کہ متعدد خفیہ رپورٹوں سے انتباہ ملتا ہے کہ القاعدہ اپنی پناہ گاہ یعنی پاکستان سے امریکی سرزمین پر حملے کرنے کے لئے زورشور سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

9۔ حکومت کے احتساب کے دفتر کی اطلاع (GAO-08-622) کے مطابق 2003 سے امریکی انتظامیہ اور کانگریس کا خیال ہے کہ فاٹا سے ابھرنے والی دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سفارتی، فوجی، معاشی وترقیاتی امداد، قانونی معاونت اور انٹلی جینس غرضیکہ تمام ضروری وسائل درکارہیں۔

10۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں دو تہائی آبادی میں فی کس یومیہ آمدنی دو ڈالر سے بھی کم ہے، اور آبادی کا پانچوں حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہا ہے۔ 2008 اور 2009 میں خاص کر مہنگائی اور بجلی کے بحران نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

11۔ پاکستان میں عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے معاشی استحکام سب سے ضروری ہے۔

12۔ 2009 میں صوبہٴسرحد اور فاٹا میں فوجی کارروائی نے بے گھر افراد کا بہت بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے کئی ملین لوگوں کے لیے ضروریات کی فراہمی کے علاوہ وطن واپسی کا عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا ہے، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور بغاوت کے خلاف کام کرنے کے لئے پاکستان کو بہت موثر قومی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


سیکشن 4

اصول

1۔ پاکستان جنگ اور امن دونوں حالتوں میں امریکہ کا ساتھی رہا ہے اور دونوں ممالک کے بہت سے مشترکہ نصب العین ہیں جن میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ، پاکستان میں جمہوریت کا قیام اور قانون کی بالادستی، اور معاشی اور سماجی ترقی شامل ہیں۔

2۔ امریکہ پاکستان کی ان کوششوں میں مدد کرے جو وہ خود ایک مستحکم، محفوظ اور خوش حال ملک بننے کے لئے کر رہا ہے۔

3۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے لئے ایک متوازن ملک گیر لائحہ عمل مرتب کیا جائے جس سے ملک بھر کے لئے مدد فراہم کی جائے نہ کہ محض فوجی مدد یا پھرصرف کسی ایک ہی علاقے کی مدد۔

4۔ امریکہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی حمایت کرتا ہے اور ان عظیم قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے دی ہیں جن میں 2001 سے اب تک 1900 سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت شامل ہے۔

5۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ان معاملات پر کام کرے:

الف۔ جوش و خروش سے اور تسلسل کے ساتھ طویل المدت اور ہمہ جہت تعلقات کے ذریعے باہمی اعتماد اوربھروسے کا قیام جس سے دونوں ممالک خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں

ب۔ پاکستانی عوام اور حکومت سے جمہوریت کے فروغ، عدلیہ کی آزادی اور شفافیت اورقانون کی بالادستی کے لئے تعاون

ج۔ صحت عامہ، تعلیم، پانی اور بجلی کے پروگراموں کے بنیادی انتظامی ڈھانچوں کی تعمیر اور ترقی میں معاونت

د۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایف سی آر سمیت سارے پاکستان میں عوام کو مفت اور عمدہ جدید تعلیم کی سہولت میسر ہو تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت بھی کر سکیں اور ان کے بچوں کا مستقبل روشن ہو۔

ر۔ پاکستان بھر میں بنیادی مضامین کی پڑھائی یقینی بنائی جائے جن میں مدارس بھی شامل ہوں تاکہ پاکستانی بچوں کی زندگیاں بہتر بن سکیں اور وہ تشدد اور عدم برداشت کا راستہ نہ اپنائیں۔

س۔ پاکستان میں حکومتی اور نجی اداروں میں تعاون پیدا کیا جائے تاکہ معاشی ترقی کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔

ص۔ تعلیمی، ٹیکنیکل اور سماجی تبادلوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام میں روابط بڑھائے جائیں۔

ط۔ پاکستانی عہدیداروں میں جمع خرچ کے حساب کی اہلیت بڑھائی جائے اور انہیں یہ بھی سکھایا جائے کہ کسی پروگرام کے کارگر ہونے کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے۔ یہ کام خاص طور سے امریکی امداد کے لئے مفید ہوگا تاکہ ہم جان سکیں کہ ہماری بھیجی ہوئی رقوم کہاں کہاں استعمال ہوئی ہیں۔

ع۔ پاکستان کو ان کوششوں میں معاونت فراہم کی جائے جو وہ منی لانڈرنگ کے خلاف کر رہا ہے اوران میں دہشت گردوں کو ملنے والی رقوم کو روکنے کی کوششیں بھی شامل ہیں

ف۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل مرتب کرنے میں مدد فراہم کرنا تاکہ وہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی ریشہ دوانیوں سے اپنی سرزمین کو محفوظ رکھ سکے۔

ق۔ پاکستان کی مدد کرنا، کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط اور موثر بنا سکے اور یہ ادارے منتخب شہری حکومت کی زیر نگرانی کام کریں۔
ک۔ اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے پاکستان کی جدوجہد میں معاونت

گ۔ جن علاقوں میں پاکستان کی حکومت با اثر نہیں ہے، ان علاقوں میں بہتر کنٹرول کے لئے پاکستان کی معاونت۔

ل۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی مہارت اور مشاورت سے استفادہ۔


ٹائٹل نمبر ایک

پاکستان کے لئے جمہوری، معاشی اورترقیاتی معاونت

سیکشن 101

معاونت کی منظوری

الف۔ عمومی طور پر: صدر امریکہ مجاز ہیں کہ پاکستان کو مندرجہ ذیل امداد فراہم کریں:

1۔ جمہوری اداروں کے انضمام میں تعاون

2۔ قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں تعاون، حکومتی اداروں کی کارکردگی میں اضافے اور عالمی سطح پر تسلیم کئے جانے والے حقوق انسانی کا احترام

3۔ معاشی خود مختاری کی کوششوں میں معاونت اور معاشی ترقی میں تعاون

4۔ عوام میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جودہشت گرد مخالف کارروائیوں میں بے گھر ہو گئے۔

5۔ عوامی سفارت کاری کی ترویج، یعنی امریکہ محض حکومت ہی سے افہام و تفہیم نہ کرے بلکہ عوام سے بھی رابطے میں رہے، جو اس کی بات سنیں اور سمجھیں۔

ب۔ کاموں میں تعاون

اوپر سیکشن الف میں دئے گئے جن کاموں میں امریکہ پاکستان کی مدد کر سکتا ہے ان میں مندرجہ ذیل کام شامل ہیں:

1۔ جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں معاونت تاکہ طویل المد ت اورسویلین حکومت قائم رہے اور ملک میں استحکام پیدا ہوسکے۔ اس معاونت میں یہ سب شامل ہےَ:

الف۔ پاکستان میں قومی پارلیمنٹ کے دائرہٴکار میں وسعت اور ذیلی کمیٹیوں کی ترویج تاکہ حکومت کے کاموں کی نگرانی کی جا سکے۔

ب۔ رائے دہندگان کی تعلیم و آگہی، اور سیاسی جماعتوں کی ترویج تاکہ وہ عوام کے کام آ سکیں

ج۔ آزاد اور خود مختار عدالتی نظام اور قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے لئے مناسب تربیت

د۔ فاٹا میں قانونی اور سیاسی اصلاحات کے لئے معاونت

ر۔ منشیات کے کاروبار کی روک تھام کے لئے مدد

س۔ عالمی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کی ترویج، جن میں عورتوں اور لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنا، مذہب کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کی نگہداشت شامل ہوں

ص۔ آزاد، خود مختار اور ذمہ دار میڈیا کی ترویج


3۔ پاکستان میں معاشی آزادی اور ترقی کی ترویج

الف۔ دیہاتی علاقوں سمیت معاشی ترقی میں معاونت، پانی کے وسائل میں سرمایہ کاری کے ذریعے قدرتی وسائل کا موثر استعمال

ب۔ دیہی ترقی کی ترویج جن میں مال کو ضائع ہونے سے بچانے کے طریقے اور کھیتوں سے بازاروں تک سڑکوں کی تعمیر شامل ہے

ج۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری جس میں افغانستان کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے۔

د۔ ملازمتوں کے مواقع، جن میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی شامل ہے، مثلاً سڑکوں کی تعمیر اور قومی ہوابازی کے شعبوں کی ترویج

ر۔ کارکنوں کے حقوق، جن میں لیبر یونین کے قیام کی اجازت اور ان کے حقوق کا تحفظ شامل ہو

س۔ مائیکرو فنانس پروگرام کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی، خاص کر عورتوں کے لیے

ص۔ نوجوانوں کو انتہاپسندوں کے ہتھے چڑھنے سے محفوظ رکھنے کے لیے اقتصادی، سماجی، تعلیمی اور ہنر سکھانے کے مواقع فراہم کرنا



4۔ عوام کی فلاح کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، خاص کر عورتوں اور بچوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں

الف۔ جدید تعلیم، پیشہ ورانہ ہنر مندی اور تکنیکی تعلیم، خاص کر عورتوں اور بچوں کے لئے۔ اس کے علاوہ مدارس سمیت تعلیمی اداروں کی مناسب نگرانی، لائبریریوں اور سکولوں کا قیام

ب۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ترویج و ترقی

ج۔ صحت عامہ کے معیار میں بہتری

د۔ غیر سرکاری اداروں کی ترویج

ر۔ مہاجرین اور مقامی بے گھر افراد کی مدد


5۔ عوام کے ساتھ رابطے کا فروغ تاکہ انتہا پسندوں کے خلاف جنگ کی جا سکے اور امریکہ کے بارے میں عوام کی سمجھ کو صحیح خطوط پر ڈھالا جا سکے


الف۔ غیر سرکاری اداروں، قابل احترام علما اور دوسرے قائدین کی عسکریت پسندی اور تشدد کے خلاف بولنے کی حوصلہ افزائی

ب۔ فل برائٹ وظیفے، عالمی وزیٹر لیڈرشپ پروگرام، یوتھ ایکسچینج، اور سٹڈی پروگراموں کے تحت طلبا کے تبادلے کی ترویج۔ یہ پروگرام امریکی محکمہ ٴخارجہ کے زیر نگرانی کام کرتے ہیں اور ان کا مقصد باہمی تعلقات کا فروغ ہے۔


ج۔ اس کے علاوہ اضافی کام

1۔ پولیس کے لیے ساز و سامان اور تربیت کی رقوم
2۔ انتظامی امور کے لئے رقوم کی فراہمی

XS
SM
MD
LG