رسائی کے لنکس

logo-print

کیری خلیجی عہدیداروں سے ملاقات میں یمن اور ایران پر بات کریں گے


جان کیری نے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور یمن کے جلا وطن صدر عبد ربه منصور ہادی سے ملاقات کی جو یمن میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری فرانس کے دورے پر ہیں جہاں وہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سے سلامتی اور علاقائی امور پر بات چیت کریں گے۔ اس ملاقات میں وہ اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے خلیجی رہنماؤں کے سربراہ اجلاس کی تفصیلات طے کریں گے۔

جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں ایران کے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی بات کی جائے گی۔

جمعرات کو ریاض میں ایک نیوز کانفرنس میں کیری اور ان کے سعودی ہم منصب عادل عبدالجبیر نے کہا کہ یمن میں امداد بھیجنے کے لیے پانچ روزہ جنگ بندی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قابلِ تجدید ہو گی۔

کیری نے کہا کہ ’’ہم حوثیوں اور ان کے حامیوں، جنہیں ہم کہیں گے کہ اپنا تمام اثرورسوخ استعمال کریں، سے زور دے کر کہتے ہیں کہ وہ یمنی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھائیں اور یمن کے مستقبل کے لیے پر امن راستہ تلاش کریں۔‘‘

سعودی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حوثیوں کے ساتھ اس معاملے پر ان کا کوئی ابتدائی رابطہ نہیں ہوا کہ آیا وہ جنگ بندی کی حمایت کریں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں پورے یمن پر اثر انداز ہونے والی مجوزہ جنگ بندی کے بارے میں مزید تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا۔

اس سے قبل جمعرات کو کیری نے سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور یمن کے جلا وطن صدر عبد ربه منصور ہادی سے ملاقات کی جو یمن میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

سعودی قیادت میں قائم فضائی اتحاد حوثی ٹھکانوں پر بمباری کر رہا ہے۔ بدھ کو حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں نے جلاوطن صدر کی وفادار ملیشیا سے جنگ کے بعد عدن کے ایک اور حصے پر قبضہ کر لیا۔

ادھر یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اسمٰعیل شیخ احمد صدر ہادی اور دوسرے یمنی حکام سے ملاقات کے لیے ریاض میں ہیں۔

وہ یمن میں سیاسی عمل بحال کرنے کے لیے سخت مشاورتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں بد امنی کے دوران 650 شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ہزاروں افراد یمن سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG