رسائی کے لنکس

logo-print

رپبلکنز سینیٹرز کے خط کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی: جان کیری


جان کیری نے کہا کہ اب جبکہ ایران کے ساتھ معاہدے کی حتمی تاریخ قریب آ رہی ہے ابھی یہ واضح نہیں کہ رپبلکن مراسلہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو متاثر کرے گا یا نہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام کے معاملے پر 47 سینیٹروں کی جانب سے ایران کے رہنماؤں کو لکھے گئے کھلے خط کی ’’ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی‘‘۔

ہفتے کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ اس خط میں قانون سازوں نے اپنے اختیارات کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا۔

اس خط میں ایران کو متنبہ کیا گیا تھا کہ امریکہ کا اگلا صدر ایران کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ کسی بھی وقت منسوخ کر سکتا ہے اور یہ کہ کانگریس کسی بھی وقت اس معاہدے میں تبدیلی کر سکتی ہے۔

جان کیری نے کہا کہ اب جبکہ ایران کے ساتھ معاہدے کی حتمی تاریخ قریب آ رہی ہے ابھی یہ واضح نہیں کہ رپبلکن مراسلہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو متاثر کرے گا یا نہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے اور کچھ پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک میں اہم معاملات پر خلیج موجود ہے۔

کیری نے کہا کہ ایران کے ساتھ ان مذاکرات کا مقصد ’’صرف معاہدہ کرنا نہیں، بلکہ درست معاہدہ کرنا ہے۔‘‘

کیری نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ کانگریس کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر نظر ثانی کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے رپبلکن مراسلے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

امریکہ اور اس کے ساتھ برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کے پاس ایران کے ساتھ ایک بنیادی معاہدہ طے کرنے کے لیے مارچ کے آخر تک کا وقت ہے۔ معاہدے کے تحت ایران اپنے خلاف پابندیاں اٹھائے جانے کے عوض یورینیم افژودگی پروگرام میں تخفیف کرے گا۔

اس معاہدے کے رپبلکن مخالفین کہتے ہیں کہ ایران پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کہتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا اور اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG