رسائی کے لنکس

logo-print

چین، شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کے لیے رضامند ہے: جان کیری


امریکی وزیر ِخارجہ نے بیجنگ میں اخباری نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ، ’چین اس سے زیادہ واشگاف الفاظ میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کے بارے میں یقین نہیں دلا سکتا تھا‘۔

امریکی وزیر ِ خارجہ نے جمعے کے روز بیجنگ میں ایک بیان میں کہا ہے کہ چین شمالی کوریا پر اُس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیر ِخارجہ نے بیجنگ میں اخباری نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ، ’چین اس سے زیادہ واشگاف الفاظ میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کے بارے میں یقین نہیں دلا سکتا تھا‘۔

شمالی کوریا نے ماضی میں اپنے جوہری پروگرام، ایٹم بم کی تیاری اور دور کے ہدف تک مار کرنے والے میزائیلوں کی تیاریوں پر عالمی برادری کی تنبیہات کو نظر انداز کیے رکھا ہے۔

شمالی کوریا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس دس ایٹمی بم بنانے کی قوت موجود ہے جبکہ دوسری طرف بہت سے انٹیلی جنس ذرائع یہ کہتے ہیں کہ ابھی تک شمالی کوریا کو وہ ٹیکنالوجی نہیں حاصل ہوسکی جس کی بنیاد پر وہ یہ ہتھیار تیار کرسکے۔

امریکی وزیر ِخارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ، ’میں چین کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ اپنے دیرینہ اور ثقافتی تعلقات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شمالی کوریا پر دباؤ ڈالیں کہ وہ جوہری پروگرام کی تیاری روک دے‘۔

جان کیری نے مزید کہا، ’چین نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر نہ آیا اور اگر شمالی کوریا نے اس سلسلے میں گفتگو میں دلچسپی نہ دکھائی اور اپنا جوہری پروگرام بند نہ کیا تو پھر چین اس ضمن میں چند سخت اقدامات اٹھانے کے لیے بھی تیار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا‘۔

چین کے وزیر ِخارجہ وینگ وی نے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ چین خطے میں استحکام کے لیے اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مذاکرات کرے گا جس میں امریکہ بھی شامل ہے۔

چینی وزیر ِ خارجہ کے الفاظ، ’چین کبھی بھی کوریائی سرزمین پر جنگ کی اجازت نہیں دے گا‘۔
XS
SM
MD
LG