رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی یوکرین میں بحران کا سبب رُوسی مداخلت ہے: جان کیری


امریکی وزیر ِخارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت نہ روکی تو اسے بینکنگ، کان کنی اور توانائی سمیت کئی شعبہ جات میں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی وزیر ِخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ روس مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کے ذریعے شورش اور بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

جان کیری کے مطابق یہ ایک ’سوچی سمجھی سازش‘ ہے جس کا مقصد وہاں پر فوجی مداخلت کے لیے راہ ہموار کرنا ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیر ِخارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت نہ روکی تو اسے بینکنگ، کان کنی اور توانائی سمیت کئی شعبہ جات میں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ صدر اوباما رُوس کے لیے سخت پابندیوں کے نئے سلسلے پر کام کر رہے ہیں جو یوکرین میں مداخلت سے باز نہ آنے کی صورت میں روس پر نافذ کی جا سکتی ہیں۔

امریکی وزیر ِ خارجہ کے مطابق روس ’واضح طور پر‘ مشرقی یوکرین کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے۔

منگل کے روز سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے جان کیری کا کہنا تھا کہ، ’روس کے پاس چوائس موجود ہے، یا تو وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایک خود مختار یوکرین کے لیے کام کرے جو مشرقی اور مغربی یوکرین کے درمیان تضادات ختم کرنے کے لیے کام کرے۔ دوسری صورت میں روس کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔
یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسند جنوبی مشرقی علاقوں میں یوکرین سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ اسی طرز کی ووٹنگ کریمیا میں ہوئی تھی جب روسی افواج نے وہاں پر اختیار سنبھالا تھا۔

روسی وزیر ِخارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے امریکہ، یورپی یونین اور یوکرین کی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ان علاقوں کو بھی شامل کرنا چاہیئے۔

وزیر ِخارجہ کیری نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ ’یہ کوئی معمولی نوعیت کی بات‘ نہیں ہے کہ روس نے ان مذاکرات میں حصہ لینے کی حامی بھری ہے۔ مگر جان کیری کے مطابق مذاکرات سے قبل روس کو یوکرین میں مداخلت ختم کرنا ہوگی، سرحد پر موجود فوج کو واپس بلانا ہوگا اور یہ دکھانا ہوگا کہ وہ یوکرین میں اپنی موجودگی کو گھٹانے اور ختم کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات اٹھا رہا ہے۔

ریپبلکن سینیٹر باب کروکر کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے مزاج میں روس کے حوالے سے عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔ ایک طرف تو وہ یوکرین میں روسی مداخلت پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر دوسری جانب یوکرین کے مستقبل کے حوالے سے کیے جانے والے مذاکرات میں بھی رُوس کو بھی کیا جاتا ہے۔

بات کروکر کے الفاظ، ’ایک طرف تو ہم ان کی سرزنش کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ہم ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ میں شش و پنچ کا شکار ہوں کہ اس بارے میں ہماری پالیسی کیا ہے؟‘

نیٹو افواج کے چیف اینڈرز راسموسن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روسی مداخلت ایک ’تاریخی غلطی‘ ہوگی اور رُوس کو دنیا سے الگ کر دے گی۔
XS
SM
MD
LG