رسائی کے لنکس

logo-print

شام امن مذاکرات شیڈول کے مطابق ہونے چاہئیں، امریکہ


جان کیری نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے شام میں جاری تشدد میں 80 سے 90 فی صد تک کمی آئی ہے جو ایک بہت ہی اہم پیش رفت ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے ملک میں جاری جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود امن مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہونے چاہئیں۔

ہفتے کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ شام میں جاری جنگ بندی کی بشار الاسد حکومت کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کی شکایات سے آگاہ ہے لیکن ان خلاف ورزیوں کے باوجود تمام فریقین کو پیر سے جنیوا میں امن مذاکرات شروع کردینے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد سے شام میں جاری تشدد میں 80 سے 90 فی صد تک کمی آئی ہے جو ایک بہت ہی اہم پیش رفت ہے۔

جان کیری نے بتایا کہ امریکی اور روسی مبصرین شام کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کے لیے ہفتے کو جنیوا اور عمان میں ملاقاتیں کریں گے جن میں شام میں جاری تشدد میں مزید کمی لانے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دریں اثنا شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے لیکن وہ حزبِ اختلاف کے بڑھتے ہوئے مطالبات تسلیم نہیں کرے گی۔

ہفتے کو دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ولید المعلم نے بتایا کہ شامی حکومت کا وفد مذاکرات میں شرکت کےلیے اتوار کو جنیوا روانہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شامی سفارت کار جنیوا میں مذاکرات کے لیے حزبِ اختلاف کے وفد کا صرف 24 گھنٹے انتظار کریں گے اور اگر اس دوران حزبِ اختلاف کا وفد بات چیت کرنے نہ آیا تو شامی سفارت کار وطن واپس لوٹ آئیں گے۔

ولید المعلم نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ملک کی صدارت کے معاملے پر کسی کے ساتھ کوئی بات نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کو بھی شام میں مستقبل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو موضوعِ گفتگو بنانے کا کوئی اختیار نہیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے ایک رہنما نے ولید المعلم کے اس بیان پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی وزیرِ خارجہ جنیوا مذاکرات کو آغاز سےقبل ہی تعطل کا شکار کر رہے ہیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے مرکزی نمائندہ اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود امن مذاکرات میں شریک ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی کوششوں اور میزبانی میں پیر سے جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات تقریباً دو ہفتے تک جاری رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG