رسائی کے لنکس

logo-print

سیاسی درجہٴحرارت میں اضافہ، رہنماوٴں کی ملاقاتیں جاری


بدھ کو ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما خورشید شاہ نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی۔

پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کے اہم اور مرکزی رہنما پچھلے کئی دن سے ایک دوسرے کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کو پاکستان بھر کا میڈیا ’آزادی مارچ‘ اور ’انقلاب‘ کے تناظر میں انتہائی اہمیت دے رہا ہے اور چھوٹی چھوٹی ملاقاتوں کو بھی نمایاں کوریج دی جا رہی ہے۔

ادھر آزادی مارچ کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی عوامی رابطہ مہم شروع ہوگئی ہے، جس کے الیکٹرونک میڈیا پر اشتہارات بھی آنے لگے ہیں۔

بدھ کو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق، فاٹا سے رکن قومی اسمبلی غازی گلاب جمال اور جماعت اہل حدیث کے رہنما ساجد میر سے ملاقات کی، جبکہ ایک روز قبل بھی انہوں نے کئی جماعتوں کے رہنماوٴں سے مل کر ان سے موجودہ ملکی حالات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

بدھ کو ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما خورشید شاہ نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی۔

عوامی تحریک اور ادارہ منہاج القرآن کے سربراہ، ڈاکٹر طاہر القادری اور سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین بھی سر جوڑ کر بیٹھے۔

شام ہوتے ہوئے ایک اور سیاسی ملاقات خورشید شاہ اور اسفندیار ولی کے درمیان ہوئی، جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر طاہر القادری سے فون پر رابطہ کیا۔

ان رہنماوٴں نے ملاقاتوں کی تفصیلات سے میڈیا کو بھی آگاہ کیا جس میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے، عید قرباں سے پہلے قربانی جائز نہیں، جبکہ خورشید شاہ نے کہا کہ اپنی صفیں درست ہوں تو دستانے پہنے ہوئے ہاتھ کامیاب نہیں ہو سکتے۔

قاف لیگ کے چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ آزادی حاصل کرنے کیلئے انقلاب ضروری ہے، انقلاب ضرور آئے گا۔ طاہر القادری نے کہا کہ 10 اگست کا یومِ شہدا صرف ماڈل ٹاوٴن کے نہیں، ضربِ عضب کے شہدا کے بھی نام ہوگا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں سے یوں لگتا ہے کہ گویا حکومت اور اس کے مخالفین دونوں اپنا اپنا کیمپ مضبوط کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ کچھ غیر جانبدار کھلاڑی مصالحت کیلئے سرگرم ہیں۔

دوسری جانب، حکومت کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم خوف زدہ نہیں۔ تاہم، ممکنہ احتجاجی مارچ، مظاہروں اور سیاسی صورتحال پر مشاورت ضروری ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماوٴں سے بھی اگلے کچھ روز میں ملاقات طے ہے۔

XS
SM
MD
LG