رسائی کے لنکس

logo-print

خادم حسین رضوی کو 80 دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے


خادم حسین

تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور دیگر کارکنوں کو تین ایم پی اوز کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ انہیں 30دن سے 80دن تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔

بلدیہ عظمیٰ لاہور کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابتدائی طور پر خادم حسین رضوی کو تیس دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق تین ایم پی او کے تحت پکڑے جانے والے شخص کی مدت میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی درخواست پر چیف سیکرٹری اس کی مدت بڑھا کر ساٹھ اور اسی دن بھی کر سکتا ہے جبکہ ریویو ہائیکورٹ کا بورڈ کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے خادم حسین رضوی سے متعلق جاری کردہ اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک لبیک کی قیادت کو نقص امن میں خطرے کےپیش نظر وزیراعظم کی ہدایت پر گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کسی کو بھی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ امن وامان میں خلل ڈالے، شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچائے یا سڑکوں کو بلاک کرے۔ ہم سب کا خاتم النبین پر پورا یقین ہے۔‘

ماہر قانون بیرسٹر آفتاب مقصود نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا ’ آئین پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو امن میں خلل ڈالنے کے شبے میں حراست میں لے سکتی ہے۔‘

بیرسٹر آفتاب مقصود کے مطابق ’ایسے افراد کو باقاعدہ چارج شیٹ کر کے بتایا جاتا ہے کہ انہیں کس جرم کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’شخصی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی شخص عوام کو مذہبی بنیادوں پر اکسائے اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچائے‘۔

آئی جی پنجاب پولیس آفس کے ایک افسر نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ صوبہ پنجاب میں گیارہ سو پچہتر افراد کو تین ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق تحریک لبیک کی مرکزی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا گیا تمام کو پرانی درج ایف آئی آر کے تحت حراست میں لیا گیا جن میں دہشت گردی، نقص امن میں خلل ڈالنا، شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانا اور کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر دفعات درج ہیں۔

وائس آف امریکہ نے تحریک لبیک کے ترجمان اور دوسرے درجے کی قیادت سے ان کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطے کیے لیکن ان میں سے کوئی بھی دستیاب نہ ہوسکا۔

XS
SM
MD
LG