رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا داعش کے خلاف افغان طالبان کی کارروائیوں کا اعتراف


فائل فوٹو

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فورسز، افغان فورسز بشمول طالبان کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑائی میں بڑی کامیابی ملی ہے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ داعش خراسان کے سیکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں، بلکہ داعش سے علاقہ بھی چھن گیا ہے۔

خلیل زاد کے بقول، اگرچہ داعش کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ تاہم، ان کے بقول، شدت پسند گروپ کے خلاف حقیقی پیش رفت ہوئی ہے۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے بیان سے چند روز قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے دورے کے دوران کہا تھا کہ افغانستان میں داعش کے خلاف لڑائی میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

خلیل زاد نے کہا کہ اس کی مثال ننگر ہار صوبے میں ہونے والی حالیہ کارروائیاں ہیں، جن میں اتحادی افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش کے ہاتھ سے علاقہ نکل گیا بلکہ ان کے کئی جنگجوں بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق، طالبان نے زلمے خلیل زاد کے بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ان کے بقول، طالبان یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ انہوں نے داعش کے خلاف امریکہ یا افغان حکومت سے کوئی تعاون کیا ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ طالبان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ننگرہار، نغمان، کنڑ، زابل اور شمالی افغانستان میں جوزجان اور فریاب میں داعش کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

رحیم اللہ کے بقول، "طالبان اپنے مقابلے میں افغانستان میں کسی گروہ کو پنپنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس ضمن میں اگر اس سے امریکہ کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے تو طالبان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔"

البتہ، رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ زلمے خلیل زاد کا بیان طالبان کی طاقت کا اعتراف کرنا اور ایک اچھا ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بعض معاملات پر افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے مفادات مشترک ہیں۔

چند روز قبل ننگرہار میں داعش کے جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
چند روز قبل ننگرہار میں داعش کے جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

افغان امور کے ماہر اور صحافی سمیع اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ زلمے خلیل زاد کا ٹوئٹ "طالبان کے لیے ایک اہم پیغام بھی ہو سکتا ہے کہ اگر مستقبل میں طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہوتا ہے تو وہ حریف کی بجائے امریکہ کے حلیف بھی بن سکتے ہیں۔"

ان کے بقول، داعش مشرقِ وسطی میں پسپائی کے بعد افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ کا طالبان کے ساتھ کسی بھی نوعیت کا کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے دونوں کے درمیان کوئی مفاہمت بھی ہو سکتی ہے۔

حال ہی میں طالبان نے اپنے تین کمانڈروں کی رہائی کے عوض دو غیر ملکی پروفیسروں کو رہا کیا ہے، جس کے بعد امریکہ اور طالبان کی جانب سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کی جانب سے پرتشدد کارروائیاں جاری رکھنے پر ستمبر میں امن مذاکرات معطل کر دیے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ جنگ بندی کی شرط پر ہی دوبارہ امن مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ ہو گا۔ لہذٰا، یہ طالبان کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہو گا جو ماضی میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بغیر جنگ بندی پر رضامند نہیں ہوئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG