رسائی کے لنکس

logo-print

بین الافغان مذاکرات کے دوران زلمے خلیل زاد کا دورہ پاکستان کتنا اہم؟


زلمے خلیل زاد وفد کے ہمراہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں بین الافغان مذاکرات سمیت علاقائی اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پیر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق زلمے خلیل زاد کی قیادت میں وفد نے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں پاکستانی حکام سے ملاقات کی۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کے لیے خصوصی مندوب محمد صادق بھی ملاقات میں موجود تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران خلیل زاد نے بین الافغان مذاکرات کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ خلیل زاد نے کہا کہ افغان دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لانا پاکستان کی مخلصانہ اور غیر مشروط کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ خطے میں امن اور باہمی روابط کو فروغ دیا جائے۔ اُن کے بقول اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہفتے کو بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے بعد امریکی نمائندہ خصوصی کے دورہ پاکستان کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

افغان حکومت کی جانب سے پہلی ترجیح جنگ بندی ہے جب کہ طالبان کا اصرار پہلے دیگر اُمور پر بات چیت کر لی جائے۔ ایسے میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئے روز تشدد کے واقعات بین الافغان امن مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے افغان امور کے ماہر اور سینئر صحافی، سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کا ایک ساتھ بیٹھنا خوش آئند ہے۔ لیکن اُن کے بقول یہ عمل اتنا آسان نہیں ہو گا۔

سمیع یوسفزئی کے مطابق طالبان افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے خواہاں ہیں جب کہ افغان حکومت مکمل جنگ بندی پر اصرار کر رہی ہے۔

اُن کے بقول فریقین کو ایک دوسرے کا نکتہ نظر سمجھنے میں وقت لگے گا۔

ہفتے کو مذاکرات کے آغاز پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ فریقین پر اب بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں۔

افغان حکام کے وفد میں خواتین کو بھی نمائندگی حاصل ہے۔ تاہم طالبان کی جانب سے کوئی بھی خاتون مذاکراتی ٹیم میں شامل نہیں ہے۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے طالبان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ خواتین کے حقوق کے لیے صرف خواتین ہی بات کر سکتی ہیں۔

طالبان کے مطابق وہ مستقبل میں خواتین کو روزگار اور تعلیم کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

امریکی اخبار 'دی واشنگٹن پوسٹ' سے وابستہ صحافی حق نواز خان کا خیال ہے کہ خلیل زاد کے دورہ اسلام آباد کا واضح مطلب ہے کہ دوحہ میں معاملات پیچیدہ ہیں اور اس میں پاکستان کی مدد درکار ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے حق نواز خان نے بتایا کہ امریکہ جب کبھی بھی طالبان کے حوالے سے کسی مشکل کا شکار ہوا تو اس نے اس ضمن میں ہمیشہ پاکستان سے مدد لی ہے۔ خلیل زاد کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ان کے بقول بین الافغان امن مذاکرات سے قبل قیدیوں کے تبادلے کے موقع پر بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا جس کے بعد قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار ہوئی۔

حق نواز کے مطابق چوں کہ افغان طالبان گزشتہ کئی دہایئوں سے نہ صرف خود بلکہ ان کے خاندان بھی پاکستان میں رہائش پذیر رہے ہیں۔ لہذٰا پاکستان کا ان پر اثر و رُسوخ ہے۔

XS
SM
MD
LG