رسائی کے لنکس

logo-print

'افغان امن عمل کے لیے پاکستان مزید اقدامات کر سکتا ہے'


زلمے خلیل زاد ان دنوں خطے کے مختلف ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کہا ہے افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار اطمینان بخش ہے تاہم پاکستان اس ضمن میں مزید اقدامات کر سکتا ہے۔

اسلام آباد میں امریکہ کے سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی حکام سے افغانستان کے معاملات پر بات چیت کی ہے۔

بیان کے مطابق سفیر زلمے خلیل زاد نےاتوار کو وزیر عمران خان اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل آفتاب کھوکھر اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔

سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خلیل زاد نے پاکستان عہدیداروں کو گزشتہ ماہ طالبان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا ہے۔

خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امریکہ امن عمل میں پاکستان کے کردار کو حوصلہ افزا قرار دیتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان اس ضمن میں اضافی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے دورے کے دوران اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر بھی پاکستانی حکام سے بات چیت کی ہے۔

اتوار کے روز پاکستان اور امریکہ کے وفود کا مشاورتی اجلاس ہوا تھا۔
اتوار کے روز پاکستان اور امریکہ کے وفود کا مشاورتی اجلاس ہوا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات افغانستان میں پائیدار امن کے لیے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے علاقائی رابطوں، تعاون کو فروغ ملے گا جو دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور اس کے لیے امریکہ مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

ماہر افغان امور طاہر خان کہتے ہیں کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اب بھی طالبان پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جسے استعمال کر کے وہ افغانستان میں امن معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے طاہر خان کا کہنا تھا کہ امریکہ جامع امن معاہدے کے بغیر افغانستان سے فوج نہیں نکالنا چاہتا، جبکہ طالبان فوج کے انخلا سے قبل تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

خلیل زاد کے دورے سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ دورہ امن عمل کو آگے بڑھانے اور افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے معاون ثابت ہو گا۔

ترجمان کے بقول زلمے خلیل زاد کابل میں افغان حکومت اور دیگر افغان فریقین سے مشاورت کریں گے جن میں افغان معاشرے کے نمائندے، خواتین اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد بھی شامل ہوں گے۔

امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی یہ خواہش رہی ہے کہ طالبان امریکہ کے علاوہ افغان حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات شروع کریں تاہم طالبان اس سے انکار کرتے آئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد، برسلز، برلن، قطر اور ابو ظہبی کے دوروں کے ذریعے زلمے خلیل زاد افغان تصفیئے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG